ووہان: لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی، زندگی معمول پر آنے لگی
کرونا وائرس کا سب سے پہلا شکار بننے والے چین کے شہر ووہان میں اب حالات بتدریج معمول پر آ رہے ہیں۔ چین کی حکومت نے ووہان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے شہر میں آمدورفت کے کچھ راستے کھول دیے ہیں جب کہ سب وے سروسز بھی بحالی کی جا رہی ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد دو ماہ سے ایک دوسرے سے دور خاندان دوبارہ اکٹھے ہو رہے ہیں۔
ووہان شہر میں دسمبر کے آخر میں پھوٹنے والی اس وبا نے تین ماہ میں اب دُنیا کے 200 سے زائد ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ہفتے کو تین ماہ بعد شہر میں ہائی اسپیڈ ٹرین پہنچی جس میں 19 سالہ نوجوان گو لیانگ کائی بھی شامل تھا، جس کا شنگھائی میں ایک ماہ کا کام تین ماہ تک محیط ہو گیا۔
رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے لیانگ کائی نے کہا کہ اپنے شہر واپس آنے اور خاندان سے ملنے پر وہ بہت خوش ہیں۔ اُن کی والدہ نے ٹرین اسٹیشن پر اُن کا استقبال کیا۔
لیانگ کائی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی والدہ سے گلے ملنا چاہتا ہیں۔ لیکن اب بھی اس وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کی جا رہی ہیں۔ لہذٰا وہ ایسا نہیں کر سکتے۔
بھارت میں لاک ڈاؤن، مزدور طبقہ سیکڑوں کلو میٹر کے پیدل سفر پر مجبور
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بھارت میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ لیکن نئی دہلی کی سڑکوں پر کچھ لوگ سامان اٹھائے پیدل سفر کر رہے ہیں۔ یہ مزدور پیشہ افراد دور دراز کے علاقوں سے روزگار کمانے دہلی آئے تھے جو ٹرانسپورٹ کی بندش کے سبب پیدل ہی اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہو رہے ہیں۔ رتول جوشی کی رپورٹ
بھارتی کشمیر: لاک ڈاؤن میں صارفین تک ضروری اشیا پہنچانے کا منفرد طریقہ
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سماجی فاصلوں کی ہدایات اور لاک ڈاؤن نے لوگوں کے لیے سامان کی خریداری مشکل بنا دی ہے۔ لیکن بھارتی کشمیر میں کچھ ڈپارٹمنٹل اسٹورز نے شہریوں تک اشیائے خور و نوش اور دیگر چیزیں پہنچانے کا منفرد طریقہ اپنایا ہے۔ دیکھتے ہیں زبیر ڈار کی اس رپورٹ میں۔
- By روشن مغل
پاکستانی کشمیر میں دوسرے ملکوں سے لوگوں کی آمد محدود کرنے کا فیصلہ
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ مارچ میں 17 ہزار سے زائد لوگ کشمیر میں داخل ہوئے۔ لہذٰا اب یورپ اور شمالی امریکہ سے آنے والے کسی فرد کو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔
مظفر آباد میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے وسائل بہت محدود ہیں۔ لہذٰا احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس وبا کا راستہ روکیں گے۔
انہون نے بتایا کہ بیرونی ممالک سے آنے والوں کی ٹریکنگ کے لیے یونین کونسل کی سطح پر کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ اُن کے پاکستانی کشمیر آنے والوں کا سارا ڈیٹا جمع کر لیا گیا ہے۔ راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔
راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ مظفرآباد میں ٹیسٹنگ لیب شروع ہوگئی ہے ہفتے تک میرپور اور راولاکوٹ میں بھی لیبز قائم ہو جائیں گی۔