تھائی لینڈ سے آنے والے پاکستانیوں کو قرنطینہ سے گھر جانے کی اجازت
تھائی لینڈ سے آنے والے پاکستانیوں کو قرنطینہ سے گھر بھیج دیا گیا ہے۔ بینکاک سے اسلام آباد آنے والے 170 مسافروں کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔
کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تمام مسافروں کو گھر جانے کی اجازت دی۔ مسافر گزشتہ شب اسلام آباد ایئر پورٹ پہنچے تھے۔
تمام مسافروں کے نمونے حاصل کرکے انہیں ہوٹلز منتقل کیا گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ تھائی لینڈ سے آنے والے تمام مسافروں میں کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔
پاکستان میں 4365 افراد کے ٹیسٹ، 20 فی صد میں وائرس کی تصدیق
وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان بھر میں 121 کرونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ دو مریضوں کی موت ہے۔ ملک میں 1526 کیسز کنفرم ہیں جب کہ 13 اموات ہو چکی ہیں۔
خیال رہے کہ سرکاری ویب سائٹ پر یہ اعداد و شمار اپ ڈیٹ نہیں کیے گئے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 13324 ہے جن میں سے لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد 1526 میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ان کے بقول پاکستان میں 36 فی صد کیسز پنجاب اور 31 فی صد سندھ سے سامنے آئے ہیں۔
معاون خصوصی برائے صحت کے مطابق پاکستان میں 8066 افراد کو قرنطینہ میں یا سماجی میل جول سے دور رکھا گیا ہے۔ ان میں سے 50 فی صد سے زائد یعنی 4365 افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ 4365 افراد جن کے ٹیسٹ کیے گئے ان میں سے 20 فی صد یعنی 869 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں موجود 58 فی صد کیسز ایران سے آنے والے زائرین کے ہیں جب کہ 20 فی صد افراد دیگر ممالک سے آنے والے ہیں۔ باقی کیسز مقامی طور پر لوگوں میں ایک دوسرے سے منتقل ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ سماجی میل جول کم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے گئے اس کے مثبت نتائج آئے۔ پاکستان کے حوالے سے جو مختلف اندازے لگائے گئے تھے اس سے کم کیسز سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سماجی میل جول کے حوالے سے اقدامات پر عمل کرتے رہے تو مرض کو قابو کیا جا سکے گا جب کہ احتیاط نہ کرنے سے کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
- By شمیم شاہد
مردان کے پولیس افسر میں کروبا وائرس کی تصدیق
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کی پولیس کے ایس پی آپریشنز وقار عظیم کھرل 18 مارچ سے یونین کونسل منگاہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ علاقے میں فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ اس دوران ان کے بقول وہ متعلقہ علاقے کے بہت سے لوگوں سے ملے ہیں۔
اتوار کے روز ایک ویڈیو پیغام میں وقار عظیم کھرل نے بتایا کہ چند روز قبل انہویں نے اپنا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا تھا جس کا نتیجہ ہفتے کے روز مثبت آیا۔
کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد نہ صرف انہوں نے اپنے آپ کو بلکہ ساتھ ڈیوٹی پر مامور دیگر افسران اور اہلکاروں کو بھی قرنطینہ کر دیا ہے۔
وقار عظیم کے بقول اس فیصلے کا مقصد اس بیماری کو روکنا ہے۔
اپنے مختصر پیغام میں وقار عظیم کھرل نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھروں میں رہنے سے ملک بھر کے لوگوں کی زندگیاں محفوظ ھو سکتی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں سے بھی پولیس افسران کو کرونا وائرس ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں تاہم ان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
پاکستان میں 24 گھنٹوں میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا
پاکستان میں سرکاری طور پر جاری اعداد وشمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا۔
اعداد وشمار کے حوالے سے بنائی گئی ویب سائٹ نمبرز کےمطابق پاکستان میں مجموعی طور پر 1526 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ 28 افراد اس وبا سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 13 ہو گئی ہے تاہم گزشتہ 24 گھنٹوں میں کوئی شخص اس وبا سے ہلاک نہیں ہوا۔
مقامی میڈیا میں مزید تین افراد کی ہلاکت کی خبریں چل رہی ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کو ویب سائٹ پر اپڈیٹ نہیں کیا گیا۔
پاکستان کے ابادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 558 افراد میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے۔ سندھ میں 481، خیبر پختونخوا میں 188، بلوچستان میں 138، گلگت بلتستان میں 116، کشمیر میں 2 جب کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 43 کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔