کرونا وائرس کے شکار امریکی میوزک اسٹار جو ڈفی چل بسے
امریکہ کے گریمی ایوارڈ یافتہ میوزک اسٹار جو ڈفی کرونا وائرس کے سبب انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 61 برس تھی۔
فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق گلوکار جو ڈفی کی موت کا اعلان ان کے فیس بک پیج پر کیا گیا ہے۔
اس اعلان کے مطابق اُن کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد اُنہیں کئی پیچیدگیوں نے آگھیرا تھا اور یہی پیچیدگیاں بلاخر ان کی موت کا سبب بنیں۔
اپنی موت سے دو روز قبل ہی ڈفی نے سوشل میڈیا پر اپنے پرستاروں سے یہ بات شیئر کی تھی کہ ان کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
صدر ٹرمپ اپریل کے وسط میں پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے سے دستبردار
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں تیزی سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظراپریل کے وسط سے کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کے اپنے فیصلے سے دست بردار ہو گئے ہیں اور انہوں نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات میں اپریل کے اختتام تک توسیع کر دی ہے۔
صحت سے متعلق صدر ٹرمپ کے مشیر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث ایک لاکھ امریکی ہلاک ہو سکتے ہیں۔ جس کے بعد صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی جا رہی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ اپریل کے وسط میں معیشت کو معمول پر لانے کے لیے کاروباری سرگرمیاں شروع کر دی جائیں گی۔
اتوار کو وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں کرونا وائرس سے متعلق بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دو ہفتے کے دوران کرونا وائرس کے باعث شرح اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
بریفنگ کے موقع پر صدر ٹرمپ کے ہمراہ ان کے مشیر اور نامور کاروباری افراد بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ کامیابی حاصل کرنے سے پہلے جیت کا اعلان کردینے سے بدتر کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنے فیصلے سے متعلق مزید تفصیلات سے منگل کو آگاہ کریں گے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر وہ حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہوں گے تو اتنا جلدی اس بیماری کو ختم کیا جاسکے گا۔
یاد رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے 2460 افراد افراد اور ایک لاکھ 41 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ کیسز امریکہ میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔
پاکستان نے سینکڑوں ہوٹل عارضی قرنطینہ مراکز میں تبدیل کر دیے
صحت عامہ کی دیکھ بھال کے ابتر نظام میں فوری بہتری لانے کے اقدام کے طور پر پاکستان نے سینکڑوں ہوٹلوں کو قرنطینہ کے عارضی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے، تاکہ کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔
ناقدین نے بتایا ہے کہ یہ فوری اقدام غیر معمولی نوعیت کا ہے، جب کہ ملک کے وسائل محدود ہونے کے باعث اضافی اخراجات برداشت کرنے کی گنجائش کم ہے۔
پاکستان کے قریبی اتحادی، چین نے درکار اہم طبی رسد اور عملہ فراہم کیا ہے، تاکہ وبا کے اثرات میں کمی لانے میں مدد دی جا سکے۔
پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد کم از کم 1400 ہے، جب کہ 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک میں ایک ماہ قبل کرونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔
شام میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت
مشرقِ وسطیٰ کے ملک شام میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
شام کی وزارتِ صحت کے وزیر نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لائی گئی خاتون دم توڑ گئی ہے جو کرونا وائرس میں مبتلا تھی۔
سرکاری طور پر خاتون کی موت کو شام میں کرونا وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملک میں سرکاری اعداد و شمار کے برعکس متاثرہ مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک بھر میں کاروباری مراکز، اسکول، یونیورسٹیز، مساجد، پبلک ٹرانسپورٹ اور بیشتر سرکاری دفاتر بند ہیں۔