کرونا وائرس: دنیا بھر میں کیسز کی تعداد سات لاکھ 35ہزار سے متجاوز
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد سات لاکھ 35 ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے جب کہ وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی 34000 سے بڑھ گئی ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز امریکہ میں ہی ہیں جب کہ سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہوئی ہیں۔
اٹلی میں کئی ہفتوں سے مکمل لاک ڈاؤن کی صورت حال ہے۔ اتوار کو اٹلی کرونا وائرس سے مزید 750 اموات کی تصدیق ہوئی۔ تاہم ملک میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار میں قدرے کمی کے اشارے ملے ہیں۔
امریکہ کے سب سے زیادہ گنجان آباد شہر نیو یارک میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ شہر میں امدادی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے جب کہ پیر کو امریکی بحریہ کے ایک جہاز میں قائم اسپتال کو نیو یارک پہنچا دیا گیا ہے۔
اس بحری جہاز کی آمد سے نیو یارک کے اسپتالوں سے کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں کو اس اسپتال میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ نیو یارک کے اسپتالوں میں کرونا وائرس کے سوا دیگر مریضوں کی گنجائش پیدا ہو سکے۔
اسی طرح کے ایک اور بحری جہاز میں قائم نیوی کے اسپتال کو امریکہ کے دوسرے گنجان ترین شہر لاس اینجلس کی بندرگاہ لانگ بیچ پہنچا دیا گیا ہے۔
امریکہ میں پہلے سے اعلان کردہ سوشل ڈسٹینس یعنی سماجی فاصلے کی پابندی آج پیر کو ختم ہونے والی تھی۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پابندی کو اپریل کے آخر تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
دنیا کے متعدد سربراہان مملکت اس وائرس کے معیشت پر اثرات پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔ تاہم وائرس سے بڑھتی ہوئی اموات کے حوالے سے انہیں مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔
روس میں نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے اور ماسکو میں عام شہریوں کو صرف انتہائی ضروری کاموں، خوراک یا دوائیں خریدنے، طبی بنیادوں پر کسی ہنگامی صورت حال میں ہی گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
برطانیہ میں وزیر اعظم بورس جانسن اور ولی عہد شہزادہ چارلس سمیت کرونا وائرس میں مبتلا 22000 کیسز کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں لاک ڈاؤن چھ ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔
امریکہ میں گھروں میں قیام کے احکامات میں ایک ماہ کی توسیع
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لوگوں کے گھروں میں رہنے اور سماجی دوری برقرار رکھنے کے لیے جاری کردہ ہدایات کی مدت آئندہ ماہ کے آخر تک بڑھا دی ہے۔
امریکی صدر کو اپریل کے وسط سے ملک میں معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کے عندیے پر تنقید کا سامنا تھا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے 'گائیڈ لائنز' پر عمل در آمد کی مدت میں توسیع کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک اعلیٰ طبی ماہر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وبا سے امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی موت ہو سکتی ہے۔
کرونا وائرس کے دنیا بھر میں سب سے زیادہ کیسز امریکہ میں سامنے آئے ہیں جن کی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار سے زائد ہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی 2489 تک پہنچ چکی ہے۔
اتوار کو وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں کرونا وائرس سے متعلق بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کرونا وائرس کے باعث شرح اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
بھارتی حکومت کا لاک ڈاؤن میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ
بھارت کی حکومت نے کرونا وائرس کے باعث ملک بھر میں 21 روز کے لیے عائد کردہ لاک ڈاؤن میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارتی حکومت نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ 21 روزہ لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے جب کہ لاک ڈاؤن کے باعث ملک بھر میں کام سے محروم ہونے والے افراد کو اشیائے ضروریہ پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بھارتی کابینہ کے سیکرٹری راجیو گاؤبا نے مقامی نیوز ایجنسی 'اے این آئی' سے گفتگو کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ حکومت کی طرف سے عائد پابندیاں ممکنہ طور پر طویل مدت تک کے لیے ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا دورانیہ تین ہفتوں سے بڑھانے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
- By ثمن خان
پنجاب یونیورسٹی میں لیبارٹری کا افتتاح، یومیہ 100 ٹیسٹ ہوں گے
کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں جامعہ پنجاب نے لیبارٹری کا آغاز کیا ہے۔
کرونا ڈائیگنوسٹک لیبارٹری کے افتتاح پر جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد کا کہنا تھا کہ کرونا کے ٹیسٹ ماہرین کی نگرانی میں سینٹر فار اپلائیڈ مالیکیولر بائیولوجی میں کیے جائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ صحت کی جانب سے بھیجے گئے کرونا وائرس کے نمونوں کے ٹیسٹ لیبارٹری میں ہوں گے۔
لیبارٹری کی استعداد کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ فی الوقت کرونا وائرس کے یومیہ 100 ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کی لیبارٹری میں مقامی کِٹ سے کرونا وائرس کے ایک ٹیسٹ پر 800 روپے لاگت آئے گی۔