- By علی فرقان
ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان کے لیے 20 لاکھ ڈالرز کی امداد
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مزید 20 لاکھ ڈالرز کی امدادی رقم دینے کی منظوری دی ہے۔
اے ڈی بی کے اعلامیے مطابق یہ مالی اعانت پاکستان کو کرونا وائرس کے پیش نظر ہنگامی طبی سامان خریدنے میں معاون ہوگی جو کہ ایشیا پیسیفک ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ کے تحت دی جا رہی ہے۔
یہ امدادی رقم پاکستان کو پہلے سے فراہم کردہ پانچ لاکھ ڈالرز کے علاوہ ہوگی جس کی منظوری 20 مارچ کو دی گئی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس سے اب تک 1800 سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جس میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے،
اے ڈی بی کے ڈائریکٹر ژاؤونگ یانگ نے کہا ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان پر پڑنے والے اس وبائی بیماری کے غیر معمولی اثرات کو تسلیم کرتا ہے جب کہ کرونا وائرس پر قابو پانے کی جنگ میں پاکستان کی مدد کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
'کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ماسک معاون نہیں ہیں'
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں چہرے کے ماسک (فیس ماسک) معاون نہیں ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے ہیلتھ ایمرجنسیز مائیک ریان کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ بہت بڑے پیمانے پر لوگ چہروں پر فیس ماسک پہن لیں تو اس کا فائدہ ہوگا۔
فیس ماسک پہننے کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ایسے شواہد ضرور سامنے آئے ہیں کہ جس سے فیس ماسک پہننے کے منفی اثرات ہوئے ہوں۔ کیوں کہ ماسک درست انداز میں نہ پہننے یا اس کو ٹھیک طریقے سے چہرے پر نہ لگانے سے منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔
عالمی ادرہ صحت کے مطابق صرف ان افراد کو ماسک پہننے کی ضرورت ہے جو پہلے سے بیمار ہوں یا جو لوگ تیمار داری اور علاج کی خدمات انجام دے رہے ہوں۔
مائیک ریان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر طبی اشیا کی کمی کا سامنا ہے۔ اس سے لوگوں کا علاج کرنے والے افراد روز بروز خطرے سے دوچار ہوتے جا رہے ہیں۔
ان فرنٹ لائن ورکرز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس فیس ماسک نہ ہونا انتہائی خطرناک صورت حال ہے۔
واضح رہے کہ بعض طبی ماہرین فیس ماسک کے استعمال پر زور دے رہے ہیں جب کہ ان ماہرین کے مطابق زیادہ بہتر فیس ماسک ہوں ہیں جو گھر پر تیار کیے جائیں۔
امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینٹیشن کا کہنا ہے کہ گھر میں تیار کیے گئے فیس ماسک ان چھوٹے ذرات کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے جو ہوا کہ ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینٹیشن کے مطابق ایسے ماسک ممکن ہے کہ اس وقت بالکل کارآمد ثابت نہ ہوں جب کوئی شخص ماسکے پہہنے والے کے قریب کھانسے یا چھینک مارے۔
- By سہیل انجم
نئی دہلی: تبلیغی جماعت کے اجتماع سے وائرس پھیلا ؟
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شریک ہونے والے 24 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ان افراد نے دہلی میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز میں منعقد ہونے والے ایک اجتماع میں شرکت کی تھی بعد ازاں ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا تو اس کے نتائج پازیٹیو آئے۔
مختلف ریاستوں میں ہونے والی سات ہلاکتوں کو بھی اب اس اجتماع سے جوڑا جا رہا ہے۔
بھارت اور دیگر ممالک سے تقریباً دو ہزار افراد 13 سے 15 مارچ تک اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔ ان میں سے 300 میں پیر کو کرونا وبا کی علامتیں پائی گئی تھیں جس کے بعد انہیں مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔
منگل کی صبح 700 افراد کو بسوں کے ذریعے شہر کے الگ الگ مقامات پر لے جا کر آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔
تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کاندھلوی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ پر تبلیغی جماعت کے مرکز کو وبا پھیلانے کے مرکز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جس پر تبلیغی جماعت نے اعتراض کیا ہے۔
تبلیغی جماعت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کے ذریعے 22 مارچ کو 'جنتا کرفیو' کے اعلان کے بعد پروگرام منسوخ کر دیا گیا تھا۔
جماعت نے یہ بھی کہا ہے کہ پہلے دہلی حکومت نے اور پھر وزیر اعظم نے 21 روز کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ اس لیے لوگ وہاں سے نکل نہیں سکے۔
تبلیغی جماعت کے مطابق اس نے پولیس سے مدد کی اپیل کی تھی۔
کرونا وائرس سے پہلا امریکی فوجی ہلاک، 568 اہلکاروں میں وبا کی تصدیق
پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ کرونا وائرس سے امریکہ میں پہلے فوجی اہلکار کی ہلاکت ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق فوج میں کئی اہلکار وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
ہلاک ہونے والے فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ نیو جرسی آرمی نیشنل گارڈزمین میں وائرس کی تصدیق کے بعد انہیں 21 مارچ کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ دس دن زیرعلاج رہنے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی۔
خیال رہے امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد بھی ایک لاکھ 64 ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے۔
ایک روز قبل پینٹاگون سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق فوج کے 568 اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
محکمہ دفاع کے ساتھ کام کرنے والے 450 سویلینز، کنٹریکٹرز اور دیگر متعلقین میں بھی وبا کی تصدیق ہو چکی ہے۔