- By ضیاء الرحمن
پنجاب کے شہر جھنگ کی سبزی منڈی میں پہلا سینیٹائزر واک تھرو گیٹ نصب
پنجاب کے شہر جھنگ کی سبزی منڈی میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پہلا سینیٹائزر واک تھرو گیٹ نصب کر دیا گیا ہے۔ گیٹ سے روزانہ پانچ ہزار سے زائد افراد گزر سکتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر جھنگ طاہر وٹو کے مطابق پاکستان میں وائرس کی بڑھتی ہوئی بیماری کے پیش نظر یہ گیٹ شہر کی بڑی سبزی منڈی کے باہر لگایا گیا ہے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کی صورت حال کے باعث کچھ ایسی جگہیں تھیں جہاں لوگوں کی آمد و رفت کو بند نہیں کیا جا سکتا تھا جن میں سبزی منڈی بھی شامل ہے۔
ان کے بقول منڈی میں روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔
طاہر وٹو نے بتایا کہ انہوں نے ترکی کی ایک ویڈیو دیکھی تھی جسے دیکھ کر انہیں بھی یہ واک تھرو سینیٹائرز گیٹ بنانے کا خیال آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وائرس سے بچاؤ کے لیے بنائے گے واک تھرو سینیٹائزر گیٹ پر ایک لاکھ 82ہزار روپے لاگت آئی ہے جب کہ یہ صرف دس گھنٹوں میں تیار کیا گیا ہے۔
جھنگ کے بعد پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد میں بھی ایسے ہی واک تھرو سینیٹائرز گیٹ لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر فیصل آباد ایوب بخاری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے واک تھرو سینیٹائزر گیٹ نصب پر کام تیزی سے جاری ہے۔
ٹوکیو اولمپکس اب 23 جولائی 2021 سے شروع ہوں گے
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث رواں سال ملتوی ہونے والے ٹوکیو اولمپکس کی نئی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا ہے۔
اب یہ گیمز 23 جولائی سے آٹھ اگست 2021 کے دوران منعقد ہوں گے۔ خصوصی افراد کے پیرا اولمپک 24 اگست سے پانچ ستمبر تک ہوں گے۔
اولمپک مقابلوں کی نئی تاریخ کا اعلان انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی، انٹرنیشنل پیرالمپک کمیٹی اور ٹوکیو 2020 آرگنائزنگ کمیٹی نے مشترکہ اعلامیے میں کیا۔
ٹوکیو اولمپکس رواں سال 24 جولائی سے نو اگست تک جاپان میں شیڈول تھے۔ تاہم کرونا وائرس کی وبا کے سبب انہیں گزشتہ ہفتے ایک سال تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔
جاپان ان گیمز کے انعقاد کے لیے نہ صرف بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرچکا تھا بلکہ تمام انتظامات بھی مکمل کرلیے گئے تھے۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر مختلف ملکوں کے سربراہان نے یہ مقابلے ملتوی کرنے پر زور دیا تھا۔
کینیڈا نے سب سے پہلے اپنے ایتھلیٹس نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد دیگر ممالک نے بھی اپنے کھلاڑی ٹوکیو نہ بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا۔
لاک ڈاؤن میں علاج کی مفت آن لائن سہولت
پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے بعد اس وبا کو لے کر شہریوں میں خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران ایک اہم مسئلہ بیماری کے لیے معالجین تک رسائی کا نہ ہونا بھی ہے۔اس سلسلے میں ٹیلی میڈیسن کا طریقہؑ کار خاصا کار آمد ثابت ہو رہا ہے۔
'صحت کہانی' کے نام سے کراچی سے ملک کے بہت سے شہروں میں کام کرنے والا ٹیلی میڈیسن ادارہ اس وقت کرونا وائرس کے پیش نظر اپنی موبائل ایپلی کیشن کو صارفین کے لیے مفت فراہم کر رہا ہے جس میں خواتین ڈاکٹرز کی مدد سے ان مریضوں کا علاج یا کاوؑنسلنگ کی جا رہی ہے جنھیں اس کی اشد ضرورت ہے۔
ڈاکٹر سارہ سعید 'صحت کہانی' کی بانی ہیں۔ اُن کے مطابق یہ ادارہ دو طریقوں سے ملک میں کام کر رہا ہے۔ پہلے طریقہ کار کے تحت پسماندہ علاقوں میں ان کے کئی کلینکس ہیں جہاں ایک تربیت یافتہ نرس موجود ہوتی ہے جو وہاں آنے والے مریضوں کو آن لائن ڈاکٹر کی مدد سے علاج کی آسانی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
دوسرا طریقہؑ کار موبائل اپیلی کیشن ہے جس کی مدد سے مریض 24 گھنٹے کسی بھی ڈاکٹر سے آڈیو یا ویڈیو لنک کی مدد سے رابطے میں آسکتا ہے۔
بلوچستان میں کرونا وبا کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 154 ہوگئی
بلوچستان میں کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 154 ہوگئی ہے۔ وائرس کا شکار ہونے والوں میں 138 ایران سے آنے والے زائرین اور 16 تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے منگل کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ بلوچستان میں اب بھی کرونا وائر س سے متاثرہ افراد کے کیسز سامنے آ رہے ہیں جو ایک تشویشناک امر ہے۔ ابھی تک 156 افراد کے خون کے نمونوں کے نتائج آنا باقی ہے۔
دوسر ی جانب ایران سے تفتان سرحد کے راستے زائرین اور تاجروں کی آمد جاری ہے۔ 16 زائرین منگل کو ایران سے بلوچستان میں داخل ہوئے۔ جن کو تفتان بازار کے قریب قائم کیے گئے قرنطینہ سینٹر میں 14 دن کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
تفتان میں لیویز کے ایک تحصیلدار ظہور بلوچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاک ایران تجارتی گیٹ زیرو پوائنٹ تاحال بند ہے۔ تاہم ایران سے آنے والے لوگوں کے لیے دن کے اوقات میں سرحد تھوڑی دیر کے لیے کھول دی جاتی ہے۔
بلوچستان کی حکومت نے شہریوں کی مشکلات اور بعض علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت کی شکایات کے بعد کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں تاجروں کو ایک گھنٹہ صبح اور ایک گھٹنہ شام میں دُکانیں کھولنے کی اجازت دی ہے جس کے باعث منگل کو بازار میں لوگ ایک بار پھر کافی تعداد میں نظر آئے۔
بلوچستان میں کرونا وائرس سے اب تک ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔ حکام کے بقول وائرس سے صوبے کے تین اضلاع زیادہ متاثر ہیں۔