رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:56 31.3.2020

خیبرپختونخوا کے اسپتالوں میں او پی ڈی بند، 231 تعلیمی اداروں میں قرنطینہ مراکز قائم

خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے کے تمام تر اسپتالوں میں او پی ڈی بند کر دی ہے۔

صوبائی حکومت نے منگل کو او پی ڈیز بند کرنے کا اعلامیہ جاری کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق او پی ڈیز کی بندش 15 اپریل تک ہو گی۔ یہ فیصلہ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

اس فیصلے کا اطلاق سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی اور مختلف وارڈز میں جاری صحت کی سہولیات پر نہیں ہوگا۔

صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں اور اضلاع کے اسپتالوں میں کرونا وائرس سے متاثرہ یا مشتبہ مریضوں کے علاج کے لیے قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

چند روز میں صوبے کے 231 تعلیمی اداروں میں بھی قرنطینہ مراکز قائم کیے جا چکے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 221 ہے جب کہ اب وائرس سے چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

17:43 31.3.2020

سلمان خان کا 25 ہزار مزدوروں کی مالی معاونت کا اعلان

کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بھارت میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث بالی وڈ فلم انڈسٹری کے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور متاثر ہو رہے ہیں۔

ان مزدوں کی مالی امداد یا کفالت کے لیے میگا اسٹار سلمان خان سمیت کئی فن کار میدان میں آ گئے ہیں۔

سلمان خان نے انڈسٹری سے وابستہ 25 ہزار مزدورں کو مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق سلمان خان اس سے قبل بھی بالی وڈ کے مختلف اسٹوڈیوز میں کام کرنے والے مزدروں اور غریب طبقات کی مدد کرتے رہے ہیں۔

سلمان خان کے والد سلیم خان نے بتایا کہ نہ صرف 25 ہزار مزدورں کی مالی امداد کی جارہی بلکہ سلمان خان کے سیکیورٹی گارڈز سمیت ان کی رہائش گاہ میں کام کرنے والے دیگر افراد کی بھی مالی ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

مزید جانیے

17:08 31.3.2020

'ایسے شواہد موجود نہیں کہ موسم گرم ہونے سے وائرس ختم ہو جائے گا'

چین اور جنوبی کوریا جیسے ایشیائی ممالک میں کرونا وائرس کے حوالے سے غیر معمولی بہتری کے باوجود عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا بدستور جاری ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر تاکیشی کاسائی کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے خلاف جنگ زیادہ عرصے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

ان کے بقول سب کو اس سلسلے میں محتاط رہنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہر ملک کو اپنی مقامی صورت حال کے مطابق فعال طریقے سے اقدامات جاری رکھنا ہوں گے۔

ڈاکٹر کاسائی اور عالمی ادارہ صحت کے دیگر ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھیں۔

ڈاکٹر کاسائی نے مزید کہا کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ موسم گرما میں حدت بڑھنے سے یہ وائرس ختم ہو جائے گا۔

ان کے مطابق یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ اس وبا کے خاتمے میں مزید کتنا وقت لگے گا۔

عالمی ادارہ صحت کو مشاورت فراہم کرنے والے وباؤں کے ماہر ڈاکٹر میتھیو گریفتھ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وبا کے پھیلنے کے خطرات غریب ترین ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک اٹلی اور اسپین میں صورت حال بہتر ہونا جلد شروع ہو گی۔

17:02 31.3.2020

لاہور میں بھی سینیٹائزر واک تھرو گیٹ کی تنصیب

پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے شہروں میں سینیٹائزر واک تھرو گیٹ لگانے کا عمل جاری ہے۔

صوبے کے دیگر شہروں کی طرح سب سے بڑے شہر لاہور میں بھی بلدیہ عظمیٰ کے دفتر کے باہر پہلا سینیٹائزر واک تھرو گیٹ نصب کیا گیا ہے۔

اس گیٹ سے گزرنے والے شخص پر جراثیم کش ادویہ کا اسپرے کیا جاتا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG