پاکستان میں کرونا کیسز کی تعداد 2000 سے تجاوز کر گئی
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو ہزار 39 ہو گئی ہے جب کہ اس وبا سے اب تک 26 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 105 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
پاکستان کا صوبہ پنجاب کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں مریضوں کی تعداد 708 ہے جب کہ سندھ میں اب تک 676 افراد میں اس وبا کی تشخیص کی جا چکی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں 253، بلوچستان میں 158، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 54، گلگت بلتستان میں 184 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے چھ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
آسٹریلیا کے نامور میڈیا گروپ کا 60 اخبارات کی اشاعت بند کرنے کا فیصلہ
کرونا وائرس کے وبائی مرض سے آسٹریلیا کی اخباری صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے. روپرٹ مرڈوک کے زیرِ انتظام چلنے والی میڈیا 'نیوز کارپوریشن' نے 60 علاقائی اخبارات کی اشاعت بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ 'کووڈ 19' اخبارات کی صنعت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جس سے اشتہارات کم ہو گئے ہیں اور اخباری صنعت کو بحرانی کیفیت کا سامنا ہے۔
'نیوز کارپوریشن' کا کہنا ہے کہ وہ نیو ساؤتھ ویلز، وکٹوریہ، کوئنز لینڈ اور ساؤتھ آسٹریلیا میں اخبارات کی اشاعت بند کر دے گا تاہم یہ اخبارات آن لائن پڑھے جاسکیں گے۔
نیوز کارپوریشن آسٹریلیا کے ایگزیکٹو چیئرمین مائیکل ملر کا کہنا ہے کہ اُن کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا لیکن کرونا وائرس کے سبب اخباری صنعت شدید معاشی دباؤ میں ہے اس کے باوجود ان کی کوشش تھی کہ ملازمین کی نوکریوں پر اس کا کم از کم دباؤ پڑے۔
امریکی نیوی اہلکار کرونا کا شکار ہو رہے ہیں: بیڑے کے کپتان کا پینٹاگون کو خط
امریکہ کے بحری بیڑے 'روزویلٹ' کے کپتان نے محکمۂ دفاع پینٹاگون کو لکھے گئے ایک خط میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کرونا وائرس سے بیڑے پر موجود اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ ہے اس لیے فوری طور پر مدد کی جائے۔
بحری بیڑے کے کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل ایک خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے۔ کرونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث چار ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق امریکی اخبار سین فرانسسکو کرونیکل نے منگل کو بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا ہے۔
خط کے متن کے مطابق کپتان بریڈ کروزیئر نے کہا ہے کہ ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں سیلرز اپنی جانیں دیں۔
انہوں نے کہا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے۔
امریکہ میں ایک دن میں 800 ہلاکتیں، دو ہفتے بہت تکلیف دہ ہوں گے، ٹرمپ
امریکہ میں منگل کو کرونا وائرس سے اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا اور 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس ٹاسک فورس نے اندازہ لگایا ہے کہ عالمگیر وبا سے امریکہ میں کم از کم ایک لاکھ اور اگر احتیاط نہ کی تو 22 لاکھ افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتے بہت تکلیف دہ، بہت بہت تکلیف دہ ہوں گے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ملک میں پہلی بار ایک دن میں ہلاکتوں کی تعداد 800 سے زیادہ ہوئی ہے۔ صرف نیویارک میں 332 افراد جان سے گئے۔ مشی گن میں 75، نیوجرسی میں 69 اور لوزیانا میں 54 افراد ہلاک ہوئے۔
ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 3800 سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ ایک لاکھ 87 ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ٹاسک فورس میں سینئر ڈاکٹروں کے ساتھ متعدد ماہرین شامل ہیں اور مستقبل کے امکانات پر غور کرتے ہوئے بدترین حالات کی تیاری کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں ٹاسک فورس روزانہ وائٹ ہاؤس میں نیوز بریفنگ دیتی ہے۔ منگل کو اس کے رکن ماہرین صحت نے وائرس سے تباہی کی خوفناک تصویر پیش کی اور کہا کہ اگر امریکیوں نے آئندہ کم از کم تیس دن سماجی دوری اختیار نہ کی تو بڑا جانی نقصان ہوسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحت عامہ کا یہ بحران قوم کی ایسی آزمائش ہے جو ماضی میں کبھی پیش نہیں آئی۔ امریکی عوام روزانہ زندگی اور موت کا فیصلہ کررہے ہیں۔ آئندہ دو ہفتے بہت تکلیف دہ، بہت بہت تکلیف دہ ہوں گے۔
ڈاکٹر ڈیبورا برکس اور ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے مستقبل کے امکانات پیش کیے اور کہا کہ اگر عوام نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں تو ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ تک اموات ہوسکتی ہیں۔ احتیاط نہ کی تو 15 سے 22 لاکھ افراد مرسکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کسی کے پاس جادو کی گولی نہیں ہے۔ کوئی جادو کی ویکسین یا تھراپی نہیں ہے۔ یہ صرف احتیاط اور رویے ہوں گے جو لوگوں کو بچاسکتے ہیں۔ اگلے تیس دن ان رویوں کی بنیاد پر طے ہوگا کہ یہ وبا کیا رخ اختیار کرتی ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے لوگوں کو زور دیا کہ وہ اگلے چند دن میں اموات کی تعداد میں اضافہ دیکھیں تو حوصلہ نہ ہاریں۔ ممکن ہے کہ مجموعی طور پر ایک لاکھ سے بہت کم اموات ہوں لیکن ہمیں بدترین صورتحال کے لیے تیار رہنا ہے۔