امریکی بحری بیڑے پر 93 اہلکار کرونا کا شکار
امریکہ کی بحریہ جوہری ہتھیاروں سے لیس 'روزویلٹ' نامی بحری بیڑے سے ہزاروں اہلکاروں کو نکال رہی ہے۔ بیڑے کے کپتان نے کرونا وائرس کی وبا سے اہلکاروں کی جان خطرے میں ہونے سے متعلق پینٹاگون کو خط لکھا تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق روزویلٹ نامی بحری بیڑہ امریکہ کے زیرِ انتظام جزیرے گوام کے قریب موجود ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق بیڑے پر 4800 افراد کا عملہ تعینات تھا۔
بیڑے سے اب تک ایک ہزار اہلکاروں کو نکالا جا چکا ہے جن میں سے 93 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
پیٹاگون کے حکام نے کہا ہے کہ 'روزویلٹ' کے عملے کے لیے فوری طور پر ہوٹلوں میں کمروں کا انتظام کر رہے ہیں جب کہ کچھ صحت مند اہلکاروں کو بیڑے پر ہی تعینات رکھا جائے گا تاکہ وہ معمول کے کام جاری رکھ سکیں۔
پاکستان میں ہلاکتیں 31 ہو گئیں
پاکستان میں کرونا وائرس کے نئے کیسز اور ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ کرونا وائرس سے متعلق تشکیل دیے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 252 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
این سی او سی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد مجموعی ہلاکتیں 31 ہو گئی ہیں۔
واضح رہے کہ این سی او سی حال ہی میں تشکیل دیا گیا ہے اور یہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سے الگ یونٹ ہے۔
این سی او سی کے مطابق پاکستان کے صوبے پنجاب میں کرونا وائرس کے 845، سندھ میں 743، خیبرپختونخوا میں 276، بلوچستان میں 187، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 62، گلگت بلتستان میں 187 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کیسز کی تعداد نو تک پہنچ چکی ہے۔
ملک بھر میں بیرون ملک سے منتقل ہونے والے کیسز 72 فی صد اور اندرونِ ملک منتقل ہونے والے کیسز کی تعداد 28 فی صد ہے۔
ملک بھر کے 414 اسپتالوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں جہاں مریضوں کے لیے بستروں کی تعداد 6335 ہے۔ اب تک 1016 مریض مختلف اسپتالوں میں ہیں جن میں سے نو کی حالت تشویشناک ہے۔
- By نوید نسیم
'کرونا سے نہ مرے تو فاقوں سے مر جائیں گے'
پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور میں لاک ڈاؤن سے مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران کچھ مخیر حضرات محنت کشوں کو کھانا بھی پہنچا رہے ہیں لیکن لنگر کی تقسیم کے دوران بد نظمی کے مناظر عام ہیں۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کش کن حالات سے گزر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا چین میں کرونا متاثرین کے اعداد و شمار پر شک کا اظہار
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس سے چین میں ہونے والی ہلاکتوں اور مریضوں کی تعداد سے متعلق فراہم کردہ اعداد و شمار پر شک کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایک خفیہ رپورٹ وائٹ ہاؤس کو ارسال کی گئی تھی جس میں امریکی ادارے بلوم برگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ کرونا وائرس سے چین میں ہلاکتوں اور متاثرہ افراد سے متعلق اعداد و شمار جعلی ہیں۔
بدھ کو نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے چین کے اعداد و شمار سے متعلق کہا کہ "ہم کس طرح تسلیم کر لیں کہ چین کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار درست ہیں۔"
صدر ٹرمپ اس بات پر بھی زور دیتے رہے کہ ان کے چین کے ساتھ بہت اچھے اور چینی ہم منصب شی جن پنگ اُن کے بہت قریب ہیں۔
کرونا وائرس پر صدر ٹرمپ کی بنائی گئی ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر ڈیبورا برکس نے بھی منگل کو اس شبہہ کا اظہار کیا تھا کہ میڈیکل کمیونٹی نے جائزہ لیا ہے کہ چین میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ متوقع اندازوں سے حیران کن طور پر کافی کم ہے۔