رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

14:19 2.4.2020

پاکستان میں یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی میں تین ماہ کی چھوٹ

پاکستان کی حکومت نے کرونا وائرس کے باعث بجلی اور گیس کے بلز کی وصولی تین ماہ کے لیے موخر کر دی ہے۔

صارفین بجلی اور گیس کے بلز اب تین ماہ بعد جمع کرا سکیں گے۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اسلام آباد میں تقریب کے دوران بتایا کہ بلوں کی عدم ادائیگی کا معاشی بوجھ حکومت برداشت کرے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ امدادی پیکج میں اس مد میں 100 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

14:03 2.4.2020

اسرائیل کے وزیر صحت کرونا وائرس میں مبتلا

اسرائیلی وزیر صحت (فائل فوٹو)
اسرائیلی وزیر صحت (فائل فوٹو)

اسرائیل کے وزیر صحت یاکوف لٹزمان اور اُن اہلیہ بھی کرونا وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ 71 سالہ وزیر صحت کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر صحت گزشتہ دنوں وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو سمیت اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر صحت اور اُن کی اہلیہ 'آئسولیشن' میں ہیں۔ اور اُن کی حالت قدرے بہتر ہے۔

اسرائیل میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ ہے جب کہ اب تک 29 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن ہے۔

13:21 2.4.2020

بھارت میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد 1965 ہو گئی

بھارت میں کرونا وائرس کے مثبت کیسیز کی تعداد بڑھ کر 1965 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 50 تک پہنچ گئی ہے۔

وزارت صحت کے مطابق 12 اموات گزشتہ 24 گھنٹے میں ہوئی ہیں۔ بدھ کو اب تک کے سب سے زیادہ 437 کیسیز سامنے آئے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اعداد و شمار میں اضافے کے پیش نظر 21 روزہ لاک ڈاون ختم ہوتے ہوتے یہ تعداد بڑھ کر 10 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اب تک 151 افراد صحت یابی کے بعد اسپتالوں سے ڈسچارج ہو چکے ہیں۔

12:55 2.4.2020

گھر سے دفتری کام انجام دینے والوں کے لیے چند مفید ایپلی کیشنز

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کرونا وائرس کے باعث لوگ اپنے دفتری کام بھی گھروں میں بیٹھ کر کرنے پر مجبور ہیں لیکن ہر کام انفرادی طور پر نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی وبا کے باعث جب گھروں سے کام کرنے کا رجحان بڑھا تو بہت سی ایپلی کیشنز کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔

اسکائپ:

مائیکرو سافٹ کی یہ ایپ لوگوں کے لیے جانی پہچانی ہے لیکن اب اس کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ مختلف انٹرویوز اور دفتری میٹنگز سے علاوہ دیگر معاملات میں بھی اسکائپ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسکائپ اکثر موبائل فونز اور لیپ ٹاپ پر پہلے سے ہی موجود ہوتی ہے۔ اس لیے اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG