رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

19:26 3.4.2020

19:15 3.4.2020

پاکستان میں تعمیراتی شعبے کے لیے سہولیات کا اعلان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر ملک میں تعمیراتی شعبے کے لیے مراعاتی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ جس کے تحت تعمیراتی شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذرائع آمدن کا نہیں پوچھا جائے گا۔ تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ بھی دے دیا گیا ہے۔

پیکج کے مطابق تعمیراتی شعبے پر ٹیکس کی شرح فکس کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں اس شعبے کے ٹیکسوں کی مجموعی شرح کم ہوجائے گی۔

نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں تعمیرات کرنے والوں کو 90 فی صد ٹیکس کی رعایت دی جائے گی۔ ابتدائی طور پر اس اسکیم کے لیے 30 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ اسٹیل اور سیمنٹ کے علاوہ تعمیراتی مواد اور خدمات پر سروسز ٹیکس معاف کیا جارہا ہے۔

اسی طرح اگر کوئی اپنا مکان فروخت کرے گا تو اس سے کیپیٹل گین ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبوں سے مل کر سیلز ٹیکس میں کمی لا رہے ہیں۔ تعمیراتی سیکٹر 14 اپریل سے کھلے گا۔ تعمیرات سے متعلق تمام ودہولڈنگ ٹیکس واپس لیے جائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس متاثرین کے لیے 150 ارب جاری کر دیے گئے ہیں۔ جس سے غریب طبقے کو مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ احساس پروگرام کے تحت 1 کروڑ لوگ ابھی تک مالی مدد کے لیے رجوع کر چکے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ صرف اس طریقے سے غریب طبقے کی مدد کرنا اور بقا ممکن نہیں۔ کرونا ریلیف فنڈ سے 40 لاکھ افراد کو چند روز میں چیک ملنا شروع ہو جائیں گے۔ ہم یہ فنڈ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اس وائرس کے خلاف پاکستانیوں کی قوت مدافعت زیادہ ہے یہ سوچ خطرناک ہے، ہمیں ہر قسم کی احتیاط کرنی ہو گی۔ یہ بہت خظرناک وائرس ہے کوئی نہیں کہہ سکتا یہ کتنی تیزی سے پھیلے گا۔

18:35 3.4.2020

بھارتی کشمیر میں جمعے کے اجتماعات روکنے کی پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں نیم فوجی دستوں اور مقامی پولیس نے جمعے کے اجتماعات روکنے کے لیے وادی میں لوگوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو سختی سے نافذ کیا۔ لیکن بعض محلوں کی مساجد میں مقامی افراد نے قلیل تعداد میں نماز ادا کی۔ سخت پابندیوں کے باعث اذان دینے کے لیے لاؤڈ اسپیکرز کا بھی استعمال نہیں کیا گیا۔

18:31 3.4.2020

بھارتی کشمیر میں کرونا کے 90 کیسز، لاک ڈاؤن میں مزید سختی

بھارت کے نیم فوجی دستوں اور مقامی پولیس نے بھارتی کشمیر کی مساجد میں جمعے کے ممکنہ اجتماعات کو روکنے کے لیے مسلم اکثریتی علاقوں میں لاک ڈاؤن میں مزید سختی کی۔

وادی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں گزشتہ 16 روز سے سخت پابندیاں عائد ہیں۔ ضلعی حکام نے پہلے ہی کووڈ-19 کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر عبادت گاہوں کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

حکام کو خدشہ تھا کہ مقامی مسلمان نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مساجد اور خانقاہوں کا رُخ کرسکتے ہیں۔ لیکن کسی بھی علاقے سے اس طرح کی کوشش کیے جانے کی اطلاع نہیں ملی۔

تاہم بعض علاقوں کی مساجد میں مکینوں کی ایک انتہائی قلیل تعداد نے ظہر کی با جماعت نماز خاموشی کے ساتھ ادا کی۔ یہاں تک کہ اذان دینے کے لیے لاؤڈ اسپیکروں کا استعمال بھی نہیں کیا گیا۔

گزشتہ جمعے کو پولیس نے وادئ کشمیر کے شوپیان اور گاندربل اضلاع میں دو پیش اماموں اور کئی مقتدیوں کو مساجد میں نمازِ جمعہ کے لیے جمع ہونے پر حراست میں لیا تھا۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے پورے جموں و کشمیر اور لداخ میں لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گیے ہیں اور نظامِ زندگی مفلوج ہے۔

کئی علاقوں میں لوگوں کو غذائی اجناس اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں تک رسد پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔

کئی غیر سرکاری تنظیموں کے اراکین اور صاحبِ ثروت شہریوں کی طرف سے مقرر کردہ افراد گھر گھر جاکر ضرورت مندوں میں اشیائے خورو نوش، ایندھن اور ادویات تقسیم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کو بھی اس کام میں حکومت کا ہاتھ بٹانے پر آمادہ کیا گیا ہے۔

جمعے کو مزید پانچ افراد کے کووڑ-19 ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ اس طرح لداخ سمیت بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 90 ہو گئی ہے۔ ان میں سے دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG