کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا: ڈاکٹر یاسمین راشد
پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کہتی ہیں کہ لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج ملے ہیں لیکن کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا۔ ان کے بقول تبلیغی جماعت کی انتظامیہ نے منع کرنے کے باوجود اجتماع کیا۔ اجتماع میں شرکت کرنے والے بہت سے لوگ کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
- By ضیاء الرحمن
حکومت پنجاب نے بڑی صنعیتں کھولنے کی مشروط اجازت دے دی
پنجاب کی صوبائی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے بڑی صنعتوں کو کھولنے کی مشروط اجازت دی ہے۔
حکومت پنجاب کے مطابق یہ فیصلہ دیہاڑی دار مزدوروں کی مشکلات اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو کم کرننے کے لیے کیا گیا ہے جس کے تحت بڑی صنعتوں کے مخصوص پیداواری یونٹس کھولے جائیں گے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کھولی جانے والی صنعتوں میں ٹیکسٹائل، اسپورٹس، گڈز اور فارما انڈسٹریز شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چمڑے کی صنعت، آٹو پارٹس، فروٹ، سبزی، گوشت ،ٹیکسٹائل، اسپورٹس، گڈز، سرجیکل اور طبی آلات بنانے والی صنعتیں محدود ملازمین اور حفاظتی انتظامات کے ساتھ کام شروع کر سکتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں ٹیکسٹائل کے 36، اسپورٹس کے 10، سرجیکل آلات کے سات، آٹو پارٹس کے تین، فارماسیوٹیکل کے 25 جب کہ پھلوں اور سبزیوں کے سات یونٹس کھولے جائیں گے۔
خیال رہے کہ صوبہ بھر میں جاری لاک ڈاؤن ہفتے کو تیرھویں دن میں داخل ہو چکا ہے جب کہ صوبہ بھر میں تمام مارکیٹیں، سینما گھر، بازار اور پیداواری یونٹس وغیرہ بند ہیں۔
چینی سفارت خانے کا کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت
پاکستان میں چین کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے جنگ کے دوران جان کی بازی ہارنے والوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں پر سوگ کے اظہار میں پاکستان میں چین کے سفارت خانے نے عمارت پر لگا پرچم بھی سرنگوں کر دیا ہے۔
سفارت خانے نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ چینی سفارتی مشن کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں جاں بحق ہونے والے افراد کو سلام پیش کرتا ہے۔
چینی سفارتی مشن نے سفارت خانے کی سیاہ و سفید تصویر جاری کر کے سوگ کا اظہار بھی کیا۔
خیال رکھنا ہو گا کہ لاک ڈاؤن کے دوران لوگ بھوک سے نہ مریں: عمران خان
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اگرچہ پابندیاں اور لاک ڈاؤن ضروری ہے۔ لیکن برصغیر میں غربت کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے پابندیوں میں توازن رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس بات کا بھی خیال کرنا ہوگا کہ لوگ لاک ڈاؤن کے دوران بھوک سے نہ مریں اور نہ ہی معیشت پر برا اثر پڑے۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ہم تعلیمی اداروں، بازار، شادی ہال اور ریستورانوں سمیت تمام عوامی اجتماع کے مقامات بند کر چکے ہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن کے اثرات سے بچنے کے لیے پہلے زرعی شعبہ کھلا رکھا گیا تھا اور اب تعمیرات کے شعبے کو کھول رہے ہیں۔