رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:19 4.4.2020

کویت اور جارجیا میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکتیں

کرونا وائرس سے کویت میں ایک شخص اور جارجیا میں ایک معمر خاتون ہلاک ہو گئی ہیں۔ کویت اور جارجیا میں ہفتے کو کرونا وائرس سے پہلی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کویت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 62 کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ کویت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 479 ہو گئی ہے۔

دوسری جانب جارجیا میں بھی ایک 79 سالہ خاتون ہفتے کو کرونا وائرس سے جان کی بازی ہار گئیں۔ 37 لاکھ سے زائد آبادی والے ملک جارجیا میں اب تک کرونا وائرس کے 157 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

16:08 4.4.2020

کرونا سے بچاؤ کے لیے ملیریا کی دوا کا ٹرائل کر رہے ہیں: وزیر صحت پنجاب

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کے صوبے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ صوبے کے مختلف شہروں میں کرونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ البتہ، قرنطینہ میں موجود افراد کی اکثریت کے کرونا ٹیسٹ منفی آ رہے ہیں۔

لاہور میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے بہت بہتری آئی ہے۔ عام آدمی کی نقل و حرکت نہ ہونے کی وجہ سے کرونا وائرس کے پاکستان میں پھیلاؤ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کرونا کیسز کی تعداد بڑھے گی۔ لہذٰا ہم توقع کر رہے ہیں کہ اتنے لوگ ہی اسپتال آئیں گے۔ جنہیں ہم سنبھال سکتے ہوں۔

وزیرِ صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبے میں 10 ہزار بیڈز کرونا وائرس کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ لیکن اس تعداد کو بڑھا کر ہم 22 ہزار کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ابھی تک جو مریض ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔ اُن کی اکثریت وہ ہے جو قرنطینہ میں تھی۔ تبلیغی اجتماع میں شریک ہونے والے 10 ہزار افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

15:37 4.4.2020

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان میں حکومت نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے قومی ایکشن پلان کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ حکومت نے رواں ماہ کے اختتام تک متوقع مریضوں کی تعداد کے بارے بھی عدالت کو آگاہ کیا ہے۔

رپورٹ میں 25 اپریل تک کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سات ہزار کیسز سنگین نوعیت اور ڈھائی ہزار کے قریب کیسز تشویش ناک نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 41 ہزار کے قریب کیسز معمولی نوعیت کے ہوں گے جن کی جلد صحت یابی کی امید ہے۔

حکومت نے عدالت کو اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبوں اور وبائی ماہرین کے ساتھ مل کر کرونا وائرس سے بچاؤ کی گائیڈ لائنز تیار کی ہیں۔ بیرون ملک سے واپس آنے والوں کی اسکریننگ کے قوائد؂ بنائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے لیے بھی ضابطہ کار وضع کر لیا گیا ہے۔

14:58 4.4.2020

کرونا وائرس: کیا پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کرونا وائرس سے نمٹنے کی مشترکہ حکمت عملی کے لیے پاکستان نے سفارتی کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے بھارت کے علاوہ کئی ملکوں کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں۔ لیکن اس موقع پر بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سرد مہری برقرار ہے۔

کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا کو صحتِ عامہ کے بحران کا سامنا ہے۔ عالمی معیشتوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ لیکن ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان اور بھارت کے معاشی مستقبل پر ماہرین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

صحت عامہ اور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ایک ایسا چیلنج ہے جس کے سماجی اور اقتصادی اثرات کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ عالمی اُمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وبا سے نمٹنا شاید تنہا کسی ایک ملک کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی سفارتی سطح پر کئی بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ یہ وبا پوری انسانیت کے لیے ایک ایسا بحران ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حالیہ ہفتوں میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔ ان میں ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، سارک ممالک، برطانیہ اور کئی یورپی ملک بھی شامل ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے بات کی، لیکن تعلقات میں سرد مہری کے باعث اہم ہمسائیہ ملک بھارت کے وزیر خارجہ سے اُن کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG