رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

18:34 5.4.2020

چار دن میں ٹیسٹ کرنے کی استعداد کو دو گنا کر دیا گیا ہے: اسد عمر

پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ چار دن میں ٹیسٹ کرنے کی استعداد کو دو گنا کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ بندشوں کی وجہ سے کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے۔ اگر بندشیں نہ ہوتیں تو کرونا وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

گزشتہ ماہ کے دوسرے ہفتے سے ملک بھر میں بندشوں کا آغاز ہوا تھا جو تاحال جاری ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ کرونا جس طرح پھیل رہا ہے اس سے موجودہ نظام صحت کم پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں تین ہزار کے قریب کرونا وائرس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ 45 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نظم و ضبط کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ اقتصادی اثرات سے معاشرے کا ہر طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل اسٹاف کی حفاظت کرنا ترجیح ہے کیونکہ ان لوگوں نے دیگر کا علاج کرنا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ آنے والے دنوں میں میڈیکل کے آلات اور سامان براہ راست اسپتالوں کو فراہم کیا جائے گا۔

18:18 5.4.2020

پائلٹس کی تنظیم نے ہوابازوں کو جہاز اڑانے سے روک دیا

پاکستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے لندن سے آنے والی پرواز کے عملے کو قرنطینہ کرنے پر پی آئی اے نے کراچی سے بین الاقوامی آپریشن معطل کردیا ہے۔

پائلٹس کی تنظیم پالپا نے بھی اپنے ممبر پائلٹس کو جہاز اڑانے سے روک دیا ہے۔

وفاقی حکومت نے 4 سے 11 اپریل تک بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے 17 پروازوں کا اعلان کیا تھا۔ لیکن گذشتہ روز کراچی سے لندن جانے والی پرواز جب واپس پہنچی تو جہاز کے عملے کو قرنطینہ کرنے کا کہا گیا۔

جس پر پائلٹس کی تنظیم پالپا نے احتجاج کرتے ہوئے سیفٹی ایشوز کے پیش نظر پائلٹس کو جہاز اڑانے سے منع کر دیا۔

پالپا کا کہنا ہے کہ ہمدردی کی بنیاد پر پروازیں چلائی گئیں لیکن ہماری صحت کے بارے میں خیال نہیں رکھا گیا۔ پالپا عملے کی حفاظت اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ لہذا اگلے نوٹس تک پائلٹ کوئی بھی جہازنہ اڑائیں۔

اس معاملہ پر پی آئی اے ترجمان عبداللہ کا کہنا ہے کہ پی آئی اے حکومت پاکستان کے مقرر اور وضح کردہ ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہے۔

ان کے بقول ہدایات میں جہاز کی ڈس انفیکشن سے لے کے عملے کی صحت و سلامتی کی احتیاط شامل ہیں۔ وفاقی حکومت کے مرتب کردہ ہدایات پر تمام ایئر پورٹس پر عمل جاری ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کراچی ایئر پورٹ پر پیش آنے والے واقعہ عملے سے متعلق حکومت پاکستان کی ہدایات کے منافی ہے۔ خالی جہاز لندن سے واپس آنے سے 3 گھنٹے قبل تمام حکام کو اطلاع کردی گئی تھی۔ تاہم ہدایات کے باوجود محکمہ صحت سندھ کے عملے نے کپتانوں کو زبردستی قرنطینہ کرنے پر اصرار کیا۔

ان کے مطابق پی آئی اے کا فضائی عملہ قومی ہیروز ہیں جو خطرات کے باوجود بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

پالپا کا کہنا ہے کہ ہمارے پائلٹس لندن پہنچے اور اس کے بعد جہاز سے اترے بغیر خالی جہاز لیکر واپس آئے۔ کسی عملے کے فرد میں کوئی علامت نہیں ایسے میں انہیں زبردستی قرنطینہ کرنا درست نہیں۔

اس صورتحال کی وجہ سے پی آئی اے کی لندن۔ ٹورنٹو اور دیگر اسٹیشنز کے لیے خصوصی پروازیں خطرے میں پڑ گئی ہیں اور ان ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو لانا حکومت کے لیے مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

17:34 5.4.2020

پنجاب میں نماز تراویح گھروں میں ادا کرنے کی تجویز

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمہ اوقاف نے کرونا وائرس کے پیش نظر ماہ رمضان میں نمازِ تراویح گھروں میں ادا کرنے کی تجویز دی ہے۔

مذہبی امور کے محکمہ اوقاف نے محکمہ داخلہ پنجاب کو ایک خط رسال کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے پیشِ نظر شبِ برآت اور ماہ رمضان کے دوران نماز تراویح مساجد کی بجائے گھروں میں ادا کی جائے۔

محکمہ اوقاف پنجاب کے سیکریٹری اور مُنتظم اعلیٰ ڈاکٹر ارشاد احمد کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھر میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ماہ رمضان میں نمازِتراویح اور شبِ برات میں عبادات مساجد کے بجائے گھروں میں کی جائیں۔

خط کے مطابق تمام مساجد میں پانچ فرض نمازوں اور نماز تراویح کی جماعت تین سے پانچ افراد، امام مسجد اور عملہ ادا کریں۔

خط لکھنے سے قبل 12 مختلف مکتبہ فکر کے علما سے مشاورت کی گئی جب کہ متفقہ فیصلے سے محکمہ داخلہ پنجاب کو آگاہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ رمضان رواں ماہ 25 اپریل تک سے شروع ہونے کے امکانات ہیں۔

17:29 5.4.2020

پاکستان کے بعض دیہات میں بازار میں دکانیں کھلی ہوئی ہیں

پاکستان میں کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے بیشتر علاقوں میں لاک ڈاؤن اور پابندیاں جاری ہیں جب کہ کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں جزوی طور پر نظام زندگی بحال ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے قریب علی پور فرش میں بھی بازار میں کئی دکانیں کھلی ہوئی ہیں جب کہ شہری خرید و فروخت کر رہے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG