'پاکستان میں 35 ہزار 875 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں'
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 3277 ہو گئی ہے جب کہ وائرس سے 50 افراد کی موت ہوئی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 35 ہزار 875 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 397 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
ملک بھر میں کیسز کی تعداد میں پنجاب میں 1493 کیسز، سندھ میں 881، خیبر پختونخواہ میں 405، بلوچستان میں 191، گلگت بلتستان میں 210، اسلام آباد میں 82 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 15 کیسز سامنے آئے ہیں۔
- By شمیم شاہد
پاکستان سے افغان باشندوں کی واپسی شروع
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیشِ نظر افغانستان کے ساتھ بند کی جانے والے طورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہوں کو پاکستان نے چار دن کے لیے کھول دیا ہے۔ سرحدی راستے کھلنے سے افغان باشندے واپس اپنے ملک جا سکیں گے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ طورخم کے راستے روزانہ ایک ہزار افغان باشندوں کو افغانستان واپس جانے میں مدد فراہم کی جائے گی۔
وزارت داخلہ کے احکامات پر پاک افغان سرحد طور خم کو چار دنوں کے لیے جزوی طور پر کھولا کیا گیا ہے۔ جو کہ پیر چھ اپریل سے جمعرات نو اپریل تک افغان شہریوں کی واپسی کے لیے کھلی رہے گی جب کہ پالیسی کے تحت یومیہ صرف ایک ہزار افغان شہری سرحد عبور کر کے افغانستان جا سکیں گے۔
سرحدی گزر گاہ پر پیر کی صبح چھ بجے سے افغان شہریوں کی واپسی شروع ہو گئی تھی۔
کرونا وائرس سے پیدا شدہ حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سرحد پر میڈیکل ٹیم تعینات ہے جو افغان شہریوں کی اسکریننگ کر رہی ہے۔
امریکہ میں اہم ترین ہفتے کا آغاز، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
امریکہ میں اعلیٰ طبی حکام کی جانب سے متنبہ کیے گئے اس ہفتے کا آغاز ہو گیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس میں سب سے زیادہ اموات ہونے کا خدشہ ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ میں کرونا سے متاثرہ نیویارک میں اموات میں کمی ہونا شروع ہو گئی ہے جس کے بعد بعض طبی ماہرین امید ظاہر کر رہے ہیں کہ اس ہفتے میں اس قدر جانی نقصان نہیں ہوگا جس قدر خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
نیو یارک کے بعد امریکی ریاست لوزیانا میں بھی صورتِ حال خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ریاستی گورنر کے مطابق آئندہ تین دن میں لوزیانا میں مزید مریضوں کے لیے وینٹی لیٹرز دستیاب نہیں ہوں گے۔ ریاست میں عالمگیر وبا کے کیسز 13 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں جب کہ 500 کے قریب اموات ہوئی ہیں۔
پینسلوینیا، کولاراڈو اور واشنگٹن ڈی سی میں بھی اموات میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی سرجن جنرل جیرم ایڈمز نے نشریاتی ادارے 'فاکس نیوز' سے گفتگو میں کہا کہ یہ ہفتہ امریکہ میں انتہائی سخت ہفتہ ہوگا جب کہ کئی لوگوں کے لیے افسوس ناک بھی ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت دوستانہ انداز میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ہمارا پرل ہاربر والا لمحہ ہو گا یا گیارہ ستمبر والے حالات ہوں گے۔ اس سے کوئی ایک علاقہ متاثر نہیں ہو گا۔
- By علی فرقان
پاکستان میں اب تک 35 ہزار افراد کے کرونا وائرس ٹیسٹ ہو چکے ہیں
کرونا وائرس کے باعث پیدا شدہ صورتِ حال اور حکومتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے قائم پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں جاری ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ جنرل افضل نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک ملک بھر میں 35 ہزار افراد کے کرونا وائرس ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔ ملک بھر میں 137 اسپتالوں کو کرونا وائرس کے لیے مختص کیا گیا ہے جب کہ 22 لیباٹریاں اس وبا سے متاثرہ افراد کے ٹیسٹ کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں 3800 سے زائد وینٹی لیٹر موجود ہیں جن میں سے 2200 پبلک سیکٹر اور باقی پرائیویٹ سیکٹر کے پاس ہیں۔ نو اپریل کو مزید 500 وینٹی لیٹر پاکستان پہنچ جائیں گے۔ مزید 2000 وینٹی لیٹر ہمسایہ ملک چین سے منگوائے جائیں گے۔
ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی حفاظتی کٹس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اب تک 29 ہزار حفاظتی کٹس صوبوں کو مہیا کر دی گئی ہیں اور پی آر سی کٹس تمام اسپتالوں کے سربراہان کو جمعرات تک بجھوائی جائیں گی۔