کوئٹہ میں ڈاکٹرز گرفتار، سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال
بلوچستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر حفاظتی طبی سامان کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹروں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
طبی عملے کی گرفتاریوں کے بعد صوبے بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں نے ہڑتال شروع کردی ہے۔
پیر کو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز نے ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو حفاظتی کٹس اور دیگر ضروری سامان فراہم نہ کرنے کے خلاف 'سول سنڈیمن اسپتال' سے ریلی نکالی۔
پولیس حکام نے ڈاکٹروں کو باور کرایا کہ کوئٹہ میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ اس لیے جلوس اور دھرنا فوری طور پر ختم کیا جائے۔ اس کے بعد پولیس اور ڈاکٹروں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
اس واقعہ کے فوراً بعد ڈاکٹروں نے صوبے بھر کے سرکاری اسپتالوں میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جس کے بعد کوئٹہ شہر اور دیگر اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے علاج کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان میں کرونا وائرس کے اب تک 192 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 12 ڈاکٹرز بھی ہیں۔
صوبائی کابینہ نے ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹس کی فراہمی اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے دیگر مطالبات کا جائزہ لیا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق حفاظتی کٹس (پی پی ای) ڈاکٹروں کے مطالبات کے مطابق اُن کے نمائندوں کو فراہم کر دی گئی ہیں اور انہیں مزید کٹس بھی دی جائیں گی۔
- By سہیل انجم
تبلیغی جماعت کے پروگرام میں شرکت: 'خود سامنے آجائیں ورنہ قتل کا مقدمہ ہوگا'
بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 4067 ہو گئی ہے جب کہ وبا سے 109 ہلاکتیں ہوئی ہیں.
رپورٹس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں 490 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
ممبئی کے اوکہارڈ اسپتال کے تین ڈاکٹرز اور 26 نرسوں کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اسپتال کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے جب کہ کیسز میں اضافے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گُلیریا کا کہنا ہے کہ ملک کے بعض علاقوں میں کرونا وائرس کمیونٹی کی سطح پر پہنچ گیا ہے یعنی اسٹیج تھری میں داخل ہو گیا ہے۔
ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں سے خطاب میں کہا ہے کہ کرونا کے خلاف لڑائی لمبی جا سکتی ہے۔ ہمیں تھکنا نہیں ہے۔
ان کے بقول اس کے خلاف فاتح ہو کر ابھرنا ہے۔
ریاست اتراکھنڈ کی پولیس نے ایک وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ حالیہ دنوں میں تبلیغی جماعت کے کسی پروگرام میں شریک ہوئے ہوں وہ از خود سامنے آجائیں ورنہ اگر ان کے ذریعے انفیکشن کی اطلاع ملی تو ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق تبلیغی جماعت کے دہلی میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کرنے والوں اور ان کے متعلقین میں سے 21200 افراد کو قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔ جن میں 2000 غیر ملکی بھی ہیں۔
کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم مذہب، ذات برادری اور طبقات کے اختلافات کو فراموش کرکے ایک قوم کی حیثیت سے متحد ہوں۔
کرونا کے شکار برطانوی وزیر اعظم اسپتال منتقل
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن، جن کا ایک ہفتہ قبل کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، کو مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہیں مسلسل تیز بخار کی شکایت ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کے دفتر نے برس جانسن کے اسپتال میں داخل ہونے کو حفاظتی اقدام قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ حکومتی نظام چلاتے رہیں گے۔
برطانیہ بھی ان ممالک میں شامل ہے جن میں کرونا وائرس کی وبا شدت اختیار کر چکی ہے۔ اب تک اس وبا سے برطانیہ میں 4900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری طور پر 47 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایران سے دو لاکھ افغان شہریوں کی واپسی
ایران سے افغانستان حالیہ ہفتوں میں دو لاکھ شہری واپس آئے ہیں تاہم ان میں اکثر کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ نہیں کیے گئے۔
امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی رپورٹ کے مطابق ایران سے واپس آنے والے افغان شہریوں کی تعداد دو لاکھ سے زائد ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں 60 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 3700 افراد کی موت چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان باشندے ایک ایسے ملک سے نکل رہے ہیں جسے کرونا وائرس کے بڑے مراکز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے جب کہ جنگ سے تباہ حال افغسنتان اس وبا سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
جو افغان شہری وطن واپس لوٹ رہے ہیں ان کا ٹیسٹ بھی نہیں کیا جا رہا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹیسٹ نہ ہونے کے نتیجے میں امکان ہے کہ افغانستان میں بڑے پیمانے پر یہ وبا پھیل سکتی ہے جب کہ صحت کے شعبے پر بہت بوجھ آ سکتا ہے۔
افغانستان کے حکام خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ایران دس لاکھ افغان شہریوں کو واپس جانے پر مجبور کر سکتا ہے۔
تارکین وطن کی بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ مارچ میں ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد افغان باشندے ایران سے واپس آئے ہیں۔
افغانستان میں حکام نے اب تک صرف 367 کرونا وائرس کے کیسز کی تصدیق کی ہے جب کہ 7 افراد کی موت اس وبا سے ہوئی ہے۔