آسٹریلیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی کے آثار
آسٹریلیا میں ہفتے اور اتوار کو نئے کیسیز میں تین فی صد کمی دیکھنے میں آئی۔ صحت کے حکام محتاط انداز میں خوش امیدی کا اظہار کر رہے ہیں۔
سڈنی سے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار فل مرسر نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ آسٹریلیا کے صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے سلسلے میں جو تدابیر کی گئی ہیں، وہ کارگر ثابت ہو رہی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ آسٹریلیا میں وہ نقصان نہیں ہو گا جس کا سامنا اٹلی یا امریکہ کو کرنا پڑ رہا ہے۔
اب تک آسٹریلیا میں تین لاکھ کے لگ بھگ افراد کے کرونا وائرس کے ٹسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں 5600 کے قریب مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے، جب کہ 34 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بیشتر معمر عمر کے لوگ تھے۔آسٹریلیا میں سماجی فاصلے کے اصول پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔ لوگوں کو بلا ضرورت گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیا جاتا۔ ہر قسم کی تفریح گاہیں، ہوٹل اور ریستوران بند ہیں اور تمام بین الاقوامی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں۔
آسٹریلیا کے چیف میڈیکل افسر بریںڈن مرفی کا کہنا ہے کہ مجموعی طور آثار مثبت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں لوگوں نے نیویارک کے حالات سے سبق سیکھا ہے اور وہ ہماری بتائی ہوئی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں، جن سے اچھے نتائج ملے ہیں۔
ایران: محدود معاشی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت
ایران کے صدر حسن روحانی نے ایک ایسی صورت حال میں، جب کہ ملک کرونا وائرس کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، کہا ہے کہ ملک میں ایسی معاشی سرگرمیاں جن میں زیادہ خطرات نہ ہوں گیارہ اپریل سے دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔ ایران میں متاثرہ افراد کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہے اور 3600 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔
سرکاری ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی ایک میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں کے پھر سے آغاز کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم نے گھروں کے اندر رہنے کے اصول کو ترک کر دیا ہے۔
انہوں نے کم خطرات والی سرگرمیوں کی وضاحت تو نہیں کی، لیکن یہ کہا کہ زیادہ خطرے والی سرگرمیاں جیسے کہ اسکولوں کا کھلنا یا بڑے اجتماعات ہیں، ان پر 18 اپریل تک پابندی رہے گی۔
صدر روحانی شہروں کے لاک ڈاؤن کے حامی نہیں تھے لیکن انہوں نے 18 اپریل تک کے لئے شہروں کے درمیان سفر پر پابندی عائد کر دی تھی۔
پنجاب حکومت کی لاک ڈاؤن میں نرمی، چند صنعتیں کھولنے کی اجازت
پنجاب حکومت نے کرونا وائرس کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں قدرے نرمی کرتے ہوئے چند صنعتیں کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ صنعتیں احتیاطی انتظامات کے بعد ہی کھل سکیں گی۔
حکومت پنجاب نے بڑی صنعتوں کے مخصوص پیداواری یونٹس کھولنے کا فیصلہ دیہاڑی دار مزدوروں کی مشکلات کو کم کرنے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو کم کرنے کے باعث کیا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کھولے جانے والی صنعتوں میں ٹیکسٹائل، اسپورٹس، گڈز اور فارما انڈسٹری شامل ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چمڑے کی صنعت، آٹو پارٹس، فروٹ، سبزی، گوشت، ٹیکسٹائل، اسپورٹس، سرجیکل اور طبی آلات بنانے والی صنعتیں محدود ملازمین اور حفاظتی انتظامات کے ساتھ کام شروع کر سکتی ہیں۔
ایوان صنعت وتجارت لاہور کے صدر عرفان اقبال شیخ کہتے ہیں کہ حکومت پنجاب نے جو صنعتیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے وہ برآمد کنندگان، تاجروں اور صنعت کاروں کی مشاورت سے کیا ہے۔
عرفان اقبال شیخ نے بتایا کہ تمام صنعت کاروں اور تاجروں نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام کارخانوں میں ایک ڈاکٹر، سینیٹائزر گیٹ، انسانی درجہ حرارت جانچنے والے آلات، ماسک، دستانے اور جگہ جگہ سینیٹائزر کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق لاہور، ملتان، فیصل آباد، شیخو پورہ، مریدکے، سرگودھا، ساہیوال، قصور، سیالکوٹ، راولپنڈی اور سمبڑیال میں قائم 118 مختلف صنعتوں کو کھولا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صنعتوں میں دفعہ 144 نافذ رہے گی جس کے مطابق کسی بھی کارخانے میں 10 مزدور یا عملے کے لوگ اکٹھے نہیں ہو سکیں گے۔
امریکی بحری بیڑے کے برطرف کپتان میں کرونا وائرس کی تشخیص
امریکہ کے محکمۂ دفاع (پینٹاگون) کو بحری بیڑے 'روز ویلٹ' پر موجود اہلکاروں کو کرونا وائرس سے لاحق خطرات سے متعلق خبردار کرنے پر برطرف کیے جانے والے کپتان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو گئی ہے۔
بحری بیڑے کے کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل ایک خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا تھا کہ بیڑے پر کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس مہلک وائرس سے چار ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
خط کے متن کے مطابق کپتان بریڈ کروزیئر نے کہا تھا کہ ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں اہلکار اپنی جانیں دیں۔
یہ خط منظر عام پر آنے کے بعد بریڈ کروزیئر کو برطرف کردیا گیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ ںے ہفتے کو پریس کانفرنس کے دوران کپتان بریٹ کی برطرفی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کپتان کو اپنے خط میں ایسا نہیں لکھنا چاہیے تھا۔