رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

02:26 7.4.2020

وزیراعظم بورس جانسن آئی سی یو منتقل

کرونا وائرس میں مبتلا برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو طبیعت بگڑنے پر انتہائی نگہداشت کے شعبے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وزیر خارجہ ڈومنیک راب بورس جانسن کی نیابت کریں گے۔

55 سالہ بورس جانسن کو اتوار کو سینٹ تھامس اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق اتوار کی شام سے وزیراعظم ڈاکٹروں کی زیر نگرانی ہیں جن میں کرونا وائرس کی علامات برقرار تھیں۔ پیر کی دوپہر وزیراعظم کی طبیعت مزید خراب ہوئی۔ اس کے بعد میڈیکل ٹیم کی سفارش پر انھیں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں منتقل کر دیا گیا۔

ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا بہترین طریقے سے خیال رکھا جا رہا ہے اور وہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے شکرگزار ہیں۔

بورس جانسن کو دس دن پہلے کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر معمول کے ٹیسٹ کے لیے اسپتال لایا گیا تھا۔ انھیں تیز بخار اور کھانسی کی شکایت لاحق تھی۔

02:24 7.4.2020

امریکہ میں جون تک اموات میں نمایاں کمی متوقع

امریکہ میں ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ 19 جون وہ پہلا دن بن سکتا ہے، جب ملک میں کرونا وائرس سے کوئی شخص ہلاک نہیں ہو گا۔ اس سے پہلے یہ تاریخ 16 جولائی بیان کی جا رہی تھی لیکن نئے اندازوں کے مطابق ایسا ایک ماہ پہلے ممکن ہو جائے گا۔ یہ پیش گوئی ملک میں کرونا کی صورت حال اور اس کے خلاف اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دن آنے سے پہلے کرونا کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو گا اور ایک دن میں تین ہزار ہلاکتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ ڈیٹا امریکہ کے انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ اویلیویشن نے مرتب کیا ہے۔

امریکی کے ہیلتھ ڈیٹا کے مطابق 10 دن بعد یعنی 16 اپریل کو کرونا وائرس کی وبا کا عروج ہو گا اور اس دن 3130 ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ اس کے بعد کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ لیکن اپریل کے آخری دن تک ایک ہزار سے زیادہ اموات ہوتی رہیں گی۔ مئی کے آخری ہفتے میں ہلاکتوں کی یومیہ تعداد سو سے کم رہ جائے گی اور امکان ہے کہ 19 جون کو کرونا وائرس سے ایک بھی شخص ہلاک نہیں ہو گا۔

اگر یہ پیش گوئی درست ہے تو خدشہ ہے کہ امریکہ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 81 ہزار سے زیادہ رہے گی۔

انسٹی ٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ روزانہ اعداد و شمار اپ ڈیٹ کرنے کی وجہ سے مستقبل کے ڈیٹا میں تبدیلی آ سکتی ہے اور ضروری نہیں کہ آج دیکھا جانے والا ڈیٹا کل بھی ایسا ہی ہو۔ لیکن بہرحال اس سے اندازہ قائم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

02:22 7.4.2020

18 ملکوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کرونا وائرس ٹیسٹ

کرونا وائرس کے ٹیسٹ اور کیسز کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف ملکوں میں وبا کے پھیلنے کی شرح الگ ہے۔ جن ملکوں نے بڑی تعداد میں ٹیسٹ کیے اور مریضوں کی تصدیق ہوتے ہی انھیں قرنطینہ تک محدود کر دیا، وہاں کیسز کی تعداد کم ہے۔ جن ملکوں میں زیادہ ٹیسٹ کرنے کے باوجود نقل و حرکت روکی نہیں جا سکی، وہاں مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

کرونا وائرس کے مریضوں کا ڈیٹا مرتب کرنے والی ویب سائٹ ورڈومیٹرز کے مطابق اب تک 18 ملکوں میں ایک لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں اسرائیل، آسٹریا، متحدہ عرب امارات اور ناروے جیسے نسبتاً کم آبادی والے ملک شامل ہیں۔

امریکہ میں ساڑھے 18 لاکھ آبادی کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے ساڑھے 3 لاکھ افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ امریکہ کی آبادی لگ بھگ 33 کروڑ ہے، اس لیے فی الحال ایک فیصد بھی آبادی کے ٹیسٹ نہیں کیے جا سکے۔ جن لوگوں کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں، ان میں سے 19 فیصد کے نتیجے مثبت آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔

مزید پڑھیے

02:20 7.4.2020

چین میں کرونا وائرس کی نئی لہر ابھرنے کا خطرہ

چین نے پیر کے روز اپنی سرحدوں پر نقل و حمل کے حوالے سے سخت اقدامات کئے ہیں، کیونکہ وہاں کرونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد میں ایک دم تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد بڑھ کر 951 ہو گئی ہے۔

ان میں زیادہ تر تعداد ان چینی باشندوں کی ہے جو غیر ممالک سے چین آئے ہیں۔ ایسے مریض بھی ہیں جن میں کرونا وائرس جیسی علامات نہیں پائی گئیں۔ اس کے بعد چین میں کرونا وائرس کی نئی لہر ابھرنے کے خدشے میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم بیجنگ سے محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے متنبہ کیا ہے کہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کرونا وائرس وبا کے خلاف کئے گئے اقدامات طویل عرصے تک نافذ العمل رہنے کا امکان ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمشن کے ترجمان نے پیر کے روز میڈیا کو بتایا کہ اتوار تک کرونا وائرس کے 951 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر وہ چینی شہری ہیں جو مختلف ممالک میں تھے اور جنہیں واپس لانے کیلئے چین نے خصوصی پروازوں کا اہتمام کیا تھا۔

فی الحال چین نے غیر ملکیوں کے چین میں داخلے پر پابندی عائد کی ہوئی اور صرف ان چینی شہریوں کو واپس آنے دیا جا رہا ہے جو دوسرے ممالک میں مقیم تھے۔

چین نے دو ماہ تک تمام سرگرمیاں محدود رکھنے کے بعد اب انہیں پوری رفتار سے بحال کر دیا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG