- By علی حسین
'کرونا وائرس کو ایک داغ کی طرح لوگوں سے منسلک نہ کیا جائے'
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر زعیم ضیا دارالحکومت میں کرونا وائرس کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ کرونا کے مصدقہ اور مشتبہ مریضوں کی ٹریکنگ اور ٹیسٹ کرتے ہیں۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو بھی ڈاکٹر زعیم ضیا کے کام کی تعریف کر چکے ہیں۔ مزید دیکھیے اس ڈیجیٹل رپورٹ میں
نیویارک کے اسکولوں کی بندش میں تین ہفتے کی توسیع
امریکہ میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اب تک اس وبا سے 10 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست نیویارک میں اسکولوں کی بندش میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔
امریکہ دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں کرونا وائرس سے اب تک مرنے والوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہوئی ہے۔
کرونا وائرس سے اموات کی شرح پر نظر رکھنے والے ادارے جان ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اٹلی میں سب سے زیادہ 16 ہزار 523، اسپین میں 13 ہزار 341 اور امریکہ میں اب تک 10 ہزار 986 افراد اس وائرس کا شکار ہونے کے بعد چل بسے ہیں۔
نیویارک کے گورنر نے اینڈریو کومو نے پیر کو ریاست کے تمام اسکول اور غیر ضروری کاروبار مزید تین ہفتوں کے لیے بند رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
نیویارک کے گورنر نے اعتراف کیا کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی کرنا بڑی غلطی تھی۔ تاہم اب سماجی دوری پر عمل پیرا ہونے سے شرح اموات کا گراف بدستور نیچے آ رہا ہے۔
پاکستان میں مزید 4 اموات، مجموعی تعدا د 54 ہو گئی
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید چار افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 54 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس کے مزید 577 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 3864 تک پہنچ چکی ہے۔
پاکستان میں اب تک 39 ہزار 183 افراد کے کرونا وائرس ٹیسٹ ہو چکے ہیں جن میں سے 3088 ٹیسٹ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیے گئے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں کرونا کے 59 فی صد مریض بیرونِ ملک سے آئے ہیں اور 41 فی صد مقامی ہیں۔ اب تک اس وبا سے ہلاک ہونے والے 54 میں سے 17 افراد کا تعلق صوبۂ سندھ، 15 کا پنجاب اور 17 کا خیبرپختونخوا سے تھا۔
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور بلوچستان میں ایک ایک جب کہ گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کے تین مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔
نیویارک میں کرونا وائرس کا ہدف بننے والا ڈاکٹروں کا خاندان
نیو یارک میں ڈاکٹروں کا ایک خاندان اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرتے ہوئے کووڈ 19 کا شکار ہوا۔ اس ایک گھر میں چار بہن بھائی ہیں اور چاروں ڈاکٹر ہیں۔ اور وہ چاروں اور ان کی والدہ کووڈ 19 کا شکار ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر سیّار خان بہن بھائیوں میں بڑے ہیں۔ وہ گردوں کے امراض کے ماہر ہیں اور نیویارک کے نارتھ ویل یونیورسٹی اسپتال میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں انہیں کرونا وائرس ان کے مریضوں میں سے کسی سے ملا کیونکہ ان کے مریضوں میں اس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اپنی کیفیت بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انہیں ابتداء میں بخار اور نزلے جیسی تکلیف ہوئی مگر پھر اس وائرس کی تصدیق ہو گئی۔ انہوں نے خود کو گھر والوں سے الگ تھلگ کر لیا اور خود ہی اپنا علاج کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کچھ دوائیں اور کچھ گھریلو ٹوٹکے استعمال کئے اور اب وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جب کہ ان کے دیگر بھائی ان کی بہن اور والدہ صحتیاب ہو رہے ہیں۔
امریکہ میں ملیریا کی ایک دوا کے بارے میں مختلف ماہرین کی مختلف رائے ہے اور صدر ٹرمپ اس دوا کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں جب کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہیں۔ ہم نے اس دوا یعنی ہائیڈروکسی کلوروکوئین کے بارے میں ڈاکٹر سیّار خان سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود یہ دوا استعمال کی ہے۔ وہ اپنے مریضوں کو بھی یہ دوا دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ وٹامن سی اور زنک بھی تجویز کر رہے ہیں۔
لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئین کے سائیڈ افیکٹس بھی ہیں اس لئے ڈاکٹر اسے تجویز کرنے سے پہلے مریضوں کا باقاعدہ ٹیسٹ کرتے ہیں چنانچہ اسے ازخود استعمال کرنا خطرے سے خالی نہیں۔