سعودی عرب کے مزید شہروں میں کرفیو نافذ، کویت نے کرفیو کا دورانیہ بڑھا دیا
سعودی عرب نے کرونا وائرس کے شکار مزید چار افراد کی ہلاکت کے بعد اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دارالحکومت ریاض سمیت دیگر کئی بڑے شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ کرفیو ریاض، تبوک، دمام، طائف، قطیف اور جدّہ سمیت کئی بڑے شہروں میں نافذ کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو گھروں میں رکھا جا سکے۔
کرفیو کے دوران لوگوں کو طبی سہولیات یا اشیائے خور و نوش کی خریداری کے لیے صبح چھ سے دوپہر تین بجے تک گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے۔
شہروں کے داخلی و خارجی راستے آمد و رفت کے لیے بند ہیں۔ کرفیو کا اطلاق منگل تک کے لیے ہے۔
- By شمیم شاہد
افغان شہریوں کی سفری دستاویزات کی چھان بین کے بغیر واپسی
پاکستان کے قبائلی ضلعے خیبر میں طورخم کی سرحدی گزر گاہ سے ہزاروں کی تعداد میں افغان باشندوں کو سفری دستاویزات کی چھان بین کے بغیر وطن واپسی کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ضلع خیبر کے انتظامی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں سے سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے پاکستان میں پھنسے افغان باشندے نصف شب کے بعد ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں جمع ہونا شروع ہوئے جب کہ صبح کے وقت یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی تھی۔
طور خم کی سرحدی گزر گاہ کے حکام کے مطابق اس قدر بڑی تعداد میں لوگوں کے سفری دستاویزات کی چھان بین انتظامیہ کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔ لہذا پشاور اور اسلام آباد میں اعلیٰ حکام کو اعتماد میں لے کر سرحدی پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انتظامی عہدیداروں نے اس سلسلے میں افغانستان کے سرحدی حکام سے بھی رابطہ کیا ہے جس کے بعد سرحد مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کرونا کے خلاف جنگ: 'دنیا کو 60 لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہے'
دنیا میں جتنے افراد صحت کے شعبے سے وابستہ ہیں ان میں سے نصف سے زیادہ تعداد نرسوں کی ہے اور کرونا وائرس کی وبا کے پیشِ نظر دنیا کو 60 لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہے۔
عالمی ادارہ صحت، نرسنگ ناؤ اور انٹرنیشنل کونسل آف نرسز کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا میں گھرے ممالک میں نرسوں کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈنوم گیبریاسز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نظامِ صحت میں نرسوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں نرسیں صفِ اول کی سپاہی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دو کروڑ 80 لاکھ نرسیں صحت کے شعبے میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔