جنوبی کوریا میں صورت حال بتدریج بہتر ہو رہی ہے: طبی ماہرین
جنوبی کوریا میں طبی ماہرین کے مطابق صورت حال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔
حکام کے مطابق منگل کے روز صرف 47 نئے کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔
جنوبی کوریا کے حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ صورت حال ایک مرتبہ پھر بگڑ سکتی ہے۔
حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے باعث قرنطینہ میں رہنے والے لوگوں کی نگرانی کے لیے انہیں کلائی کے برقی بینڈ پہنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایسا ہی اقدام پیر کو امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا میں اٹھایا گیا ہے جہاں مقامی عدالت کے ایک جج نے حکام کو اختیار دیا کہ وہ ان افراد کو ٹخنوں پر نگرانی کے برقی بینڈ پہنائیں جن کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں اب تک 10ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
حکام نے وائرس سے 192 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
جنوبی کوریا میں وبا سے متاثر ہونے والے 6700 افراد کے صحت یاب ہونے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
جاپان کے کئی علاقوں میں ہنگامی حالات نافذ
جاپان نے ملک کے متعدد علاقوں میں کرونا وائرس سے متعلق ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے کہا ہے کہ ٹوکیو اور دیگر چھ پریفیکچرز میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کے بقول کرونا وائرس سے عام لوگوں کی زندگی اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ ہنگامی حالت ایک ماہ کے لیے نافذ کی گئی ہے۔ اس کے تحت شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
امریکی صدر کی انسپکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کی رپورٹ سے اختلاف
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلتھ اور ہیومن سروسز کی قائم مقام انسپکٹر جنرل کی اس رپورٹ سے شدید اختلاف کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے عملے کے لیے حفاظتی ساز و سامان اور کرونا وائرس کی ٹیسٹ کٹس کی قلت ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ غلط ہے۔ امریکہ میں دنیا بھر سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے۔
انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ایک چارٹ دکھایا جس میں بتایا گیا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے 17 لاکھ 90 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس تعداد میں ہر روز ایک لاکھ 25 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے قائم مقام انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے دیگر حصوں کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔
امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران رپورٹرز سے کہا کہ وہ رپورٹ مرتب کرنے والے شخص کا نام بتائیں۔ یہ بتائیں کہ اسے کب تعینات کیا گیا تھا۔
بریفنگ کے بعد جب ایک رپورٹر نے کہا کہ قائم مقام انسپکٹر جنرل کا نام کرسٹی گریم ہے۔
تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مذکورہ رپورٹر سے پوچھا کہ کرسٹی گریم کب سے حکومت میں کام کر رہی ہیں۔
تو رپورٹر کا کہنا تھا کہ وہ سابقہ حکومتوں کے دوران بھی سرکاری عہدے پر کام کرتی رہی ہیں۔
اس پر صدر ٹرمپ نے پوچھا کہ کیا آپ کا مطلب اوباما انتظامیہ سے ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ بتانے کے لیے آپ کا شکریہ۔
خیال رہے کہ کرسٹی گریم کا تقرر 1999 میں کیا گیا تھا جب کہ وہ ڈیموکریٹک اور رپبلکن دنوں حکومتوں کے دوران خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔
بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں میں طبی عملے کی ہڑتال جاری
کوئٹہ میں ڈاکٹرز پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف بلوچستان بھر کے سرکاری اسپتالوں میں طبی عملے کی ہڑتال جاری ہے۔
صوبائی دارالحکومت سمیت دیگر اضلاع کے سرکاری اسپتال مکمل طور بند ہیں۔ جس سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد سمیت تمام مریض پریشانی کا شکار ہیں۔
بلوچستان کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر رحیم بابر کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات ڈاکٹرز نے تھانوں میں گزاری ہے۔ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوں گے کسی شعبے میں بھی ڈاکٹر خدمات انجام نہیں دیں گے۔
ان کے مطابق ڈاکٹرز صرف انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔