پیٹ مارکیٹس بند، سیکڑوں جانور بھوک پیاس سے ہلاک
پاکستان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پالتو جانور فروخت کرنے والی دکانوں میں بند سیکڑوں جانور ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب چکن کی طلب کم ہوجانے کی وجہ سے پولٹری فارمز ہزاروں چوزے زندہ پھینک رہے ہیں، تاکہ ان کی خوراک کا خرچہ نہ اٹھانا پڑے۔
خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں پالتو جانوروں کی مارکیٹیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہیں۔ ان کی دکانوں میں سیکڑوں خرگوش، بلیاں، کتے اور دوسرے جانور موجود تھے، جنھیں دکاندار خوراک فراہم کرتے تھے۔
لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے دکاندار شہر کے دوسرے علاقوں سے مارکیٹ نہیں آسکے اور جانور دو ہفتوں تک بھوک کا شکار رہے۔
جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے حکام سے رابطہ کرکے دکانیں کھلوائی تو دیکھا کہ پنجروں میں بند سیکڑوں جانور مرے پڑے ہیں۔ جو زندہ بچے تھے، وہ بھوک پیاس سے جاں بلب تھے۔
یہ حال دیکھ کر اب حکام نے دکانداروں کو اجازت دی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے باوجود آسکتے ہیں، تاکہ جانوروں کے کھانے پینے کا خیال رکھ سکیں۔
ان سیکڑوں پالتو جانوروں کے علاوہ پولٹری فارمز کے چوزے ہزاروں کی تعداد میں تلف کیے جا رہے ہیں، کیونکہ چکن کی طلب میں کمی آئی ہے اور اس کاروبار سے منسلک لوگ چوزوں کی خوراک کے پیسے بچانا چاہتے ہیں۔
پاکستان میں کیسز کی تعداد چار ہزار سے متجاوز
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چار ہزار سے متجاوز ہو گئی ہے۔
سرکاری ویب سائٹ 'کوئڈ' پر موجود اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 577 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 4005 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے 429 افراد صحت یاب بھی ہوئی ہیں۔
حکومت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد وبا سے اموات کی مجموعی تعداد 54 ہو گئی ہے۔
حکومت نے اب سرکاری ویب سائٹ پر ٹیسٹ سے متعلق اعداد و شمار کا اجرا بھی شروع کر دیا ہے۔ جس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3088 افراد کے کرونا وائرس سے متعلق ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر 39183 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
حکومت کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد پنجاب میں سامنے آئی جو کہ 2004 ہے۔ اس کے بعد سندھ میں 932، خیبرپختونخوا میں 500، گلگت بلتستان میں 211، بلوچستان میں 202، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 83 جب کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 19 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔
کرونا احساس کیش فنڈ: مستحقین تک رقم کس طرح پہنچے گی؟
حکومتِ پاکستان نے کرونا وائرس کے باعث صنعتیں بند اور کاروبار زندگی متاثر ہونے کے سبب ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کو فی خاندان 12 ہزار روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔
کرونا ایمرجنسی احساس کیش فنڈ کے لیے ایک ایس ایم ایس سروس شروع کی گئی ہے جس کے تحت مستحق افراد کو 4 ماہ کے لیے 12 ہزار روپے ملیں گے۔
جس شخص کو امدادی رقم کی ضرورت ہوگی وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر 8171 پر ایس ایم ایس کرے گا۔ یہ ایس ایم ایس نادرا کے ڈیٹا بیس سے چیک کیا جائے گا کہ آیا یہ شخص امداد کا اہل ہے بھی یا نہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کہتی ہیں کہ اس پروگرام میں تمام رقوم بائیو میٹرک شناخت کے ذریعے ہی دی جائیں گی۔
- By محمد ثاقب
کراچی میں کرونا وائرس سے مرنے والے ڈاکٹر خیراتی اسپتال کے بانی
سندھ میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے سینئر ڈاکٹر عبدالقادر سومرو کی موت کے بعد حفاظتی کٹس کی عدم دستیابی سے دیگر ڈاکٹرز اور طبی عملے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
کراچی میں وائرس سے ہلاک ہونے والے ڈاکٹر عبدالقادر سومرو کا تعلق شکارپور سے تھا اور وہ چانڈکا میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرکے گذشتہ کئی دہائیوں سے پریکٹس کر رہے تھے۔
طویل عرصے تک پاکستان اسٹیل ملز کے اسپتال سے وابستہ رہنے کے بعد وہ 2016 میں ریٹائر ہوئے تھے جب کہ کراچی کے علاقے گلشن حدید میں واقع خیراتی اسپتال فریدہ یعقوب میں خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ وہ اس اسپتال کے بانی ارکان میں شامل تھے۔
ڈاکٹر عبدالقادر سومرو جماعت اسلامی کے ذیلی ادارے الخدمت فاؤنڈیشن کے صوبائی صدر بھی تھے۔