کرونا وائرس سے گلگت بلتستان کی سیاحت اور تجارت متاثر
قمر عباس جعفری
کرونا وائرس کی وباء نے جہاں پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں کو متاثر کیا ہے۔ انکی معیشتوں کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ وہیں پاکستان کے ایک نہایت خوبصورت اور دور افتادہ خطے گلگت بلتستان کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔
ساری دنیا سے سیاح بہت بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ لیکن کرونا وائرس نے اسوقت اس حسین علاقے کو بالکل سنسان کردیا ہے۔ گلگت بلتستان کے وزیر اعلی حافظ عبدالحفیظ نے ایک انٹرویو میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایران سے پانچ ہزار زائرین واپس آئے تھے۔ انکو مختلف مقامات پر قرنطینہ میں رکھا گیا۔
ساٹھ ہوٹلوں کے کئ سو کمروں میں لوگوں کو قرنطینہ میں رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں انکے علاج اور قرنطینہ میں رکھنے کا عمل جاری ہے۔ چھ سو لوگوں کو جنکا ٹیسٹ نیگیٹو آیا انہیں انکے گھروں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔
وزیر اعلی نے مزید بتایا کہ اس سال گلگت بلتستان کو سیاحت کے شعبے میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ دوسرے صوبوں سے گلگت بلتستان کے وہ لوگ جو وہاں ملازمتیں کرکے اپنی روزی کماتے تھے اب بے روز گار ہوکر اپنے گھروں کو واپس آرہے ہیں۔ ان سب کی معاش کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں اور یہ معاملہ بڑھتا جا رہا ہے۔
حافظ عبدالحفیظ نے کہا چین کے ساتھ ہماری کافی تجارت ہوتی ہے۔ جو ہماری معیشت کے لئے بہت اہم ہے۔ لیکن کرونا کی وجہ سے سرحد کے ساتھ ساتھ یہ تجارت بھی بند ہے۔
نیویارک کی جیل میں قیدی کرونا وائرس کا شکار
کرونا وائرس نیویارک سٹی میں واقع ریکرز آئیس لینڈ کی جیل میں بھی پہنچ گیا ہے اور اب تک تین سو کے قریب قیدی اور ساڑھے تین سو سے زائد عملے کے افراد کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں، جبکہ ایک قیدی اس موذی مرض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوگیا ہے۔
ریکرز آئیس لینڈ کی اس جیل میں ہلاک ہونے والے 53 سالہ قیدی مائیکل ٹائی سن کی لیگل ٹیم کے مطابق، مائیکل چند روز قبل ہی کرونا وائرس کا شکار ہوا تھا جس کے بعد حالت بگڑتی چلی گئی۔ لیگل ایڈ سوسائٹی کے مطابق ہلاک ہونے والا قیدی پیرول کی مبینہ خلاف ورزی پر ریکرز جیل میں قید تھا۔
جیل کی صورتحال کا جائزہ لینے والے ادارے سٹی بورڈ آف کوریکشن کے مطابق سوموار تک تقریباً تین سو قیدی اور لگ بھگ ساڑھے تین سو عملے کے اراکین کرونا وائرس کا شکار ہوچکے تھے۔
اس جیل میں ڈیپورٹیشن اور دیگر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے ملزمان بھی بڑی تعداد میں قید ہیں جن میں سے کئی کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔
پنجاب کے 42 جیلوں میں 50 قیدیوں میں کرونا وائرس کی تصدیق
لاہور کے کیمپ جیل میں پچھلے ماہ 24 مارچ کو کرونا وائرس سے متاثرہ ایک قیدی کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پنجاب کی جیلوں میں قید، 50 قیدیوں میں اب تک کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے لاہور کے کیمپ جیل میں 100 بستروں پر مشتمل اسپتال فعال کر دیا گیا ہے۔
صوبہ پنجاب میں محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان، عامر خواجہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ پنجاب کے تمام جیلوں میں قرنطینہ سینٹر بنا دیے گئے ہیں اور ہر نئے آنے والے قیدی کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔
عامر خواجہ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چھ اپریل تک لاہور کے ڈسٹرکٹ جیل میں 334 قیدیوں کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 182 ٹیسٹ نتائج موصول ہو چکے ہیں۔ ان میں 50 ٹیسٹ مثبت اور 132 منفی آئے ہیں، جبکہ بقیہ 152 ٹیسٹس کے نتائج کا انتظار ہے۔
چین کے شہر ووہان میں لاک ڈاؤن ختم
چین نے بدھ کو ووہان شہر میں جاری لاک ڈاون ختم کر دی ہے۔ اس شہر سے دنیا بھر میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور دنیا بھر کی معیشت اور معمولات زندگی بری طرح درہم برہم ہو کر رہ گئی تھیں۔ اس شہر میں اس موذی مرض میں مبتلا ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
شہر کھلنے کے بعد معمولات زندگی اور معیشت کی بحالی کس طرح ہوتی ہے اس بات کا جائزہ پوری دنیا لے رہی ہے، تاکہ دس ہفتوں کے بعد کھلنے والے اس شہر کے تجربات اسے استفادہ کیا جاسکے۔
شہر میں ٹریفک ایک بار پھر رواں دواں ہے۔ دوکانیں کھل گئی ہیں۔ معمول کی خریداری جاری ہے۔ آہستہ آہستہ لوگ کام پر بھی جانا شروع ہو گئے ہیں۔ تاہم، بعض لوگ اب بھی خوف زدہ ہیں اور سپر مارکٹ میں جانے سے کتراتے ہیں۔