رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

11:22 8.4.2020

صدر ٹرمپ کی عالمی ادارۂ صحت پر تنقید

صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں نیوز بریفنگ
صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں نیوز بریفنگ

امریکہ میں 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار لگ بھگ دو ہزار مریض ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک روز میں ہلاکتوں کی یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کو 'غلط مشورہ' دینے پر تنقید کرتے ہوئے فنڈنگ روکنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے وقت اس ادارے کی تمام تر توجہ چین کی جانب تھی اور اس نے 'بے کار' ہدایات جاری کیں۔

وائٹ ہاؤس میں منگل کو پریس بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ڈبلیو ایچ او کے لیے امریکی امداد روک لیں گے۔

انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں بھی کہا کہ حقیقت میں عالمی ادارۂ صحت نے امریکہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ بھاری رقم کی صورت میں امداد دے اور تمام تر توجہ چین کی جانب ہوں۔ ہم اس معاملے کو درست انداز میں دیکھیں گے۔

مزید پڑھیے

03:39 8.4.2020

کرونا وائرس سے ایک دن میں سات ہزار افراد لقمہ اجل

کرونا وائرس یورپ میں بے قابو ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جہاں ایک دن میں 4500 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ دنیا بھر میں سات ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 14 لاکھ اور ہلاکتیں 81 ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق فرانس میں ایک دن میں 1417، برطانیہ میں 786، اسپین میں 704، اٹلی میں 604، بیلجیم میں 403، نیدرلینڈز میں 234، جرمنی میں 202، ایران میں 133، برازیل میں 117 اور سویڈن میں 114 ہلاکتیں ہوئیں۔ اس طرح 11 ملکوں میں 100 سے زیادہ اموات ہوئیں۔

امریکہ میں 20 لاکھ افراد کے ٹیسٹ ہوچکے ہیں، جن میں 3 لاکھ 94 ہزار مثبت رہے۔ منگل کی شام تک 1845 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

منگل کو ایک اور سنگ میل عبور ہوا جب کرونا وائرس سے صحت یاب افراد کی تعداد تین لاکھ ہوگئی۔ ان میں چین کے 77 ہزار، اسپین کے 43 ہزار، جرمنی کے 36 ہزار، ایران کے 27 ہزار، اٹلی کے 24 ہزار، مریکہ کے 21 ہزار اور فرانس کے 19 ہزار شہری شامل ہیں۔

03:35 8.4.2020

امریکہ 225 ملین ڈالر کی اضافی غیر ملکی امداد دے گا

ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں کرونا وائرس سے نبرد آزما ملکوں کی مدد کیلئے 225 ملین ڈالر اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد امریکہ کی غیر ملکی امداد کی کل رقم تقریباً نصف ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

اس امداد میں حفاظتی لباس شامل نہیں ہے، کیونکہ اس کی مانگ خود امریکہ میں بہت زیادہ ہے۔ تاہم، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ اس امداد کا مقصد غیر ممالک کی کرونا وائرس کے خلاف جنگ کو تقویت دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم، تشخیص، احتیاط اور کنٹرول اور صحت سے متعلق مقامی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے استعمال ہوگی۔ اس رقم سے ممالک اپنی اپنی لیبارٹریوں کو جانچ کیلئے اور طبی عملے کی تربیت کیلئے استعمال کر سکیں گے۔

گزشتہ ماہ امریکہ نے دنیا کے 64 ممالک کو کرونا وائرس سے بچاؤ اور علاج کیلئے 274 ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا تھا۔

03:32 8.4.2020

کرونا وائرس نے ارب پتی کم کر دیے، دولت گھٹادی

عالمگیر وبا سے صرف غریبوں کی پونجی ختم نہیں ہورہی، امیروں کی دولت بھی تیزی سے کم ہورہی ہے۔ اس کا ثبوت منگل کو اس وقت ملا جب امریکی جریدے فوربس نے ارب پتی افراد کی نئی سالانہ فہرست جاری کی۔

اس فہرست سے انکشاف ہوا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 51 فیصد امرا کی دولت کم ہوئی ہے، جبکہ 226 افراد کے اثاثے ایک ارب ڈالر سے گھٹ گئے ہیں یعنی وہ اب ارب پتی نہیں رہے۔

اس سال فہرست میں 2095 افراد یا خاندانوں کے نام شامل ہیں اور ان کی مجموعی دولت 8 ہزار ارب ڈالر ہے۔ گزشتہ سال اس فہرست میں 2153 نام تھے اور ان کی مجموعی دولت 700 ارب ڈالر زیادہ تھی۔

امیزون کے مالک جیف بیزوس کو گزشتہ سال طلاق کے بعد اپنی سابق اہلیہ کو 38 ارب ڈالر دینا پڑے تھے۔ اس کے باوجود دولت مندوں میں ان کا درجہ کم نہیں ہوا اور وہ بدستور دنیا کے سب سے امیر شخص ہیں۔ 113 ارب ڈالر کے ساتھ میں وہ مسلسل تیسرے سال اول رہے۔

مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس 98 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے، فرانس کا برنارڈ آرنالٹ خاندان 76 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر اور وارن بفیٹ 67 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔

فوربز 34 سال سے ارب پتی افراد کی فہرست شائع کر رہا ہے۔ 1987 میں پہلی فہرست میں 90 سے زیادہ ارب پتی افراد یا خاندانوں کے نام تھے۔ لیکن ان میں امریکی شامل نہیں تھے۔ ان کے نام 400 دولت مندوں امریکیوں کی فہرست میں شامل کیے جاتے تھے۔ ان دونوں فہرستوں کے مطابق 1987 میں دنیا میں 145 ارب پتی تھے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG