کرونا وائرس فنڈ کے لیے پاک بھارت سیریز کی تجویز
راولپنڈی ایکسپریس، شعیب اختر نے تجویز پیش کی ہے کہ کرونا وائرس کے مقابلے کے لیے فنڈ جمع کرنے کی غرض سے پاکستان اور بھارت کی ون ڈے کرکٹ سیریز کا اہتمام کیا جائے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، شعیب اختر نے کہا کہ ''میں بحران کے اس دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تین ون ڈے میچز کی سیریز کی تجویز پیش کرتا ہوں۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ کسی ملک کے لوگ میچ کے نتیجے پر مایوس نہیں ہوں گے''۔
شعیب اختر نے کہا کہ ''چونکہ سب لوگ گھروں میں بند ہیں اس لیے بہت بڑی تعداد میں لوگ یہ سیریز دیکھیں گے۔ پہلی بار دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے لیے کھیلیں گی۔ اس سے جتنی بھی رقم حاصل ہو، وہ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں برابر تقسیم کرکے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے استعمال کرسکتی ہیں''۔
انھوں نے کہا کہ اگر فوری طور پر نہیں تو جیسے ہی صورتحال بہتر ہونا شروع ہو، یہ سیریز منعقد کی جاسکتی ہے۔ اسے تماشائیوں کے بغیر دبئی جیسے نیوٹرل مقام پر منعقد کیا جا سکتا ہے۔ دونوں ٹیمیں چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے سفر کر سکتی ہیں۔
جے کے رولنگ کرونا وائرس کی علامات سے صحت یاب
ہیری پوٹر سیریز کی مصنفہ جے کے رولنگ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ دو ہفتے تک کرونا وائرس جیسی بیماری میں مبتلا رہیں، لیکن اب صحت یاب ہوگئی ہیں۔
جے کے رولنگ نے ایک ٹوئیٹ میں بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں تک مجھ میں کرونا وائرس جیسی تمام علامات تھیں۔ لیکن میں نے ٹیسٹ نہیں کروایا۔
انھوں نے سانس لینے کی تکنیک کی ایک ویڈیو بھی شئیر کی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے انھیں مدد ملی۔ ان کے شوہر نے یہ تکنیک تجویز کی تھی جو برطانیہ میں ڈاکٹر ہیں۔
جے کے رولنگ نے کہا کہ ''میں اب مکمل طور پر صحت یاب ہوچکی ہوں اور یہ تکنیک شئیر کرنا چاہتی ہوں جو ڈاکٹر تجویز کرتے ہیں۔ اس میں کوئی خرچہ نہیں آتا، جس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے۔ لیکن، یہ آپ کو اور آپ کے پیاروں کی بہت مدد کرسکتی ہے، جیسے میری کی''۔
کرونا وائرس پر قابو پانے کے لئے شفافیت ضروری ہے، ماہرین
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کرونا وائرس کے بحران میں حکومتوں کی جانب سے شفافیت نہایت ضروری ہے، اگرچہ عالمی وبا کی صورت میں بلکل درست اندازے لگانا مشکل ہے۔
امریکہ میں اب تک کی صورتحال کے مطابق، نیویارک کا پررونق شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں ہلاک شدگان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
بین الااقوامی اور عسکری امور سے متعلق مرکز سے منسلک تجزیہ کار ڈینیل رنڈے کہتے ہیں کہ بہت سے ملکوں کے پاس صحیح طور پر اعداد و شمار جمع کرنے اور شفافیت کے لئےسیاسی عزم کا فقدان ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کے لئے غلط وقت ہے کہ اعداد و شمار کے بارے میں کسی قسم کی بھی غلط بیانی کی جائے اور سائنسی معلومات سے اجتناب برتا جائے اور ذرائع ابلاغ کے خلاف سنسر شپ عائد کردی جائے۔
تجزیہ کاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس ابتلا کے دور میں حقائق پر پردہ ڈالنے سے گریز اور معمولات کو نہایت شفاف رکھنا بہت اہم ہے اور دوسرے طبی اور حفاظتی اقدامات کے علاوہ انھیں بھی حکمت عملی کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔
کرونا وائرس: دھوکے باز ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کی ہدایت
ویب سائٹس ایڈریسز کی جانچ پڑتال کرنے والے ادارے (آئی سی این این اے) نے ویب سائٹس ایڈریس جاری کرنے والی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پیشِ نظر فراڈ اور دھوکہ دہی میں ملوث ویب سائٹس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔
'انٹرنیٹ کارپوریشن فار اسائنڈ نیمز اینڈ نمبرز' (آئی سی اے این این) نے اس ضمن میں تمام اداروں کو ایک خط لکھا ہے۔
ماہرین کے مطابق کرونا وائرس سے ملتے جلتے ناموں پر مشتمل ویب سائٹس مختلف ناموں سے صارفین کو اشتہار یا پیغام بھیجتی ہیں۔ جن سے صارف کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے صرف مارچ میں ایک لاکھ ایسی ویب سائٹس رجسٹر ہوئی ہیں۔ جن کے ایڈریسز 'کووڈ' 'کرونا' 'وائرس' یا اس سے ملتے جلتے ہین۔ ان ویب سائٹس کے ذریعے ہزاروں 'سپیم اشہتارات' صارفین کو موصول ہو رہے ہیں۔ جن کے ذریعے لوگوں کے ساتھ فراڈ کیا جا رہا ہے۔
ادارے نے دنیا بھر میں ویب سائٹس رجسٹر کرنے والے سیکڑوں اداروں کو اس بابت متنبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتِ حال کے سد باب کے لیے نئے ویب سائٹ ایڈریس جاری کریں۔