رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

12:27 9.4.2020

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود کئی ملکوں کا پابندیوں میں نرمی پر غور

ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد اور ہلاکتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، کئی ممالک غور کر رہے ہیں کہ اس وبا کی روک تھام کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے۔

چین میں کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد وبا کے مرکز بننے والے شہر ووہان کو بھی مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ ووہان گزشتہ 76 روز سے لاک ڈاؤن میں تھا۔ تاہم اب شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق اٹلی اور اسپین میں کرونا وائرس کی شدت میں کمی آ رہی ہے۔ تاہم ماہرین صحت تنبیہ کر رہے ہیں کہ یہ بحران ابھی خاتمے سے بہت دور ہے۔ لہٰذا اگر ملکوں نے احتیاطی تدابیر میں کمی کی تو وائرس کی دوسری لہر مزید تباہی پھیلا سکتی ہے۔

لیکن اس کے باوجود امریکہ سمیت کئی ممالک پابندیوں میں نرمی کر رہے ہیں یا نرمی پر غور کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے

02:57 9.4.2020

کرونا وائرس: مریض 15 لاکھ، ہلاکتیں 88 ہزار

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی ہلاکت خیزی جاری ہے اور اب تک 88 ہزار سے زیادہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ 209 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں پھیل جانے والی اس وبا میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد 15 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اسی وائرس کا شکار ہو کر تین دن سے آئی سی یو میں ہیں۔ اس دوران بدھ کو برطانیہ میں ایک دن میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں جب 938 افراد اس وائرس کا شکار ہو کر چل بسے۔ برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد سات ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران اسپین میں 747، اٹلی میں 542، فرانس میں 541، بیلجیم میں 205، جرمنی میں 192، نیدرلینڈز میں 147، ایران میں 121 اور برازیل میں 114 افراد چل بسے۔ سویڈن میں 96، ترکی میں 87 اور سوئزرلینڈ میں 74 افراد ہلاک ہوئے۔

امریکہ میں بدھ کی شام تک 1763 افراد کا انتقال ہوا تھا۔ گزشتہ روز یہ تعداد 1970 تھی۔ اس طرح کل اموات کی تعداد ساڑھے 14 ہزار ہوگئی ہے۔ امریکہ میں 22 لاکھ افراد کے ٹیسٹ ہوچکے ہیں اور سوا 4 لاکھ میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

02:53 9.4.2020

کیا واشنگٹن ڈی سی وبا کا دوسرا بڑا نشانہ بننے والا ہے؟

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اس وقت 1200 افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔ 22 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مقامی حکام کو خدشہ ہے کہ بہت جلد حالات بدترین رخ اختیار کریں گے۔

واشنگٹن میں موسم گرم ہوتا جا رہا ہے اور مقامی آبادی مشکل سے خود کو باہر نکلنے سے روک پارہی ہے۔ سماجی فاصلے کے اصولوں کی رو گردانی جاری ہے۔

ان حالات میں صحت کے ماہرین پیش گوئی کر رہے ہیں کہ یہ علاقہ کرونا وائرس کی بد ترین زد میں آنے والا دوسرا شہر بن سکتا ہے۔

ڈی سی کی میئر میریل باوزر نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ مختلف ماڈلز یہ دکھا رہے ہیں کہ مئی یا جون میں یہاں کرونا وائرس اپنے عروج پر ہوگا اور سال کے آخر تک سات میں سے ایک شہری اس مرض کا شکار ہوچکا ہوگا۔

وائٹ ہاوس میں کرونا وائرس ٹاسک فورس کی کوارڈی نیٹر ڈاکٹر ڈیبورا برکس نے بھی بارہا کہا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی خطرے کی زد میں ہے۔ اور اگر ایسا ہوا تو شہر کے موجودہ صحت کے نظام پر بہت زیادہ بوجھ پڑ جائے گا۔

گھر سے باہر نکلنے والوں کو نوے دن کی قید ہو سکتی ہے یا پانچ ہزار تک کا جرمانہ۔ ابھی تک کسی کو یہ سزا نہیں دی گئی۔ مئیر کا کہنا ہے وہ نہیں چاہتیں کہ پولس یہ اختیار استعمال کرے۔

02:47 9.4.2020

کرونا فنڈ کے لیے بٹلر کی ورلڈکپ فائنل میں پہنی شرٹ نیلام

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر جوز بٹلر نے ورلڈ کپ فائنل میں پہنی ہوئی اپنی شرٹ 65 ہزار پاؤنڈ میں نیلام کر دی ہے۔

وہ نیلامی سے حاصل ہونے والی اس رقم کو کرونا وائرس کے خلاف لڑنے والوں کو بطور عطیہ دیں گے۔

یہ وہی قمیض ہے جو کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہنی ہوئی تھی۔

بٹلر نے اپنی شرٹ ایک ہفتہ قبل نیلامی کے لیے 'ای بے' پر پیش کی تھی۔ منگل کو اس کی نیلامی مکمل ہوئی ہے۔

نیلامی کے وقت تک شرٹ کی خریداری کے لیے 82 بولیاں لگ چکی تھیں۔ آخری بولی 65 ہزار ایک سو پاؤنڈ پر ختم ہوئی جو بولی دینے والے نے فوراً ہی ادا بھی کر دی۔

نیلامی سے ایک دن قبل جوز بٹلر نے کہا تھا کہ یہ بہت ہی اسپیشل شرٹ ہے اور اسے ایک نیک مقصد کے لیے فروخت کیا گیا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG