ووہان کے شہریوں کو دوسرے شہروں کا سفر کرنے کی اجازت
کرونا وائرس کا مرکز سمجھے جانے والے چین کے وسطی شہر ووہان کے شہریوں کو لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اب دوسروں شہروں کا سفر کرنے کی بھی اجازت مل گئی ہے۔ ووہان میں مکمل لاک ڈاؤن لگ بھگ تین ماہ تک جاری رہا۔
چین کے محکمہ ہوابازی نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز ووہان آنے اور ووہان سے باہر جانے والی پروازوں کی تعداد 221 رہی۔ یہ پہلا دن تھا جب ووہان کے شہریوں کو سفر کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس شہر میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے پل، سرنگیں اور ہائی ویز تین ماہ تک بند رہے۔ تاہم بدھ کو ان راستوں سے پانچ لاکھ شہریوں نے سفر کیا۔
ووہان سے صرف ان شہریوں کو سفر کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جن کے سیل فون پر موجود صحت کے ایپ میں سبز رنگ کا نشان دکھائی دیتا ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ صحت مند ہیں اور سفر کرنے کے قابل ہیں۔
اسلام آباد کے اسپتالوں میں آؤٹ ڈور شعبہ جات کھول دیے گئے
اسلام کی ضلعی انتظامیہ نے دارالحکومت کے سرکاری اسپتالوں میں بند کیے جانے والے آؤٹ ڈور شعبہ جات دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے نوٹی فکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی مشکلات میں کمی کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔
بھارت: ویران سڑکوں پر خوراک کے متلاشی جانوروں کا راج
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث دنیا بھر میں جزوی لاک ڈاؤن ہے۔ کروڑوں لوگ گھروں تک محدود ہیں۔ ایسے میں جہاں ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئی ہے۔ وہیں بھارت کی ویران سڑکوں پر بندروں، کتوں اور دیگر جانوروں کا راج ہے۔
بندر، آوارہ کتے اور دیگر جانور دارالحکومت نئی دہلی، ممبئی، کولکتہ اور دیگر شہروں کی ویران سڑکوں کا فائدہ اُٹھا کر کھلے عام مٹر گشت کرتے نظر آتے ہیں۔
کرونا وائرس کے باعث ان جانوروں کو بھی خوراک کے حصول سمیت دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن سنسان شاہراہوں اور پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کے ارد گرد یہ جانور بلا روک ٹوک گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بندروں کے غول نئی دہلی میں بھارتی صدر کی رہائش گاہ، پارلیمنٹ اور وزرا کی رہائش گاہوں کے قریب منڈلاتے نظر آتے ہیں۔
اپریل کے آخر تک اسپتالوں پر دباؤ بڑھے گا: عمران خان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اپریل کے آخر تک ملک کے اسپتالوں میں دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اس وبا کی شدت کم ہو گی لیکن لاہور، کراچی، فیصل آباد اور راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں کے اسپتالوں میں دباؤ بڑھے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ 14 اپریل کو صوبے لاک ڈاؤن کے حوالے سے فیصلہ کریں گے کہ وہ کس شعبے کو کھولنا چاہتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ کچھ ایسے شعبے ہیں جنہیں احتیاطی تدابیر اختیار کر کے کھولا جا سکتا ہے۔ تاکہ لوگوں کو روزگار میسر آ سکے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیاں اس ضمن میں مکمل رابطہ ہے۔