رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

14:06 9.4.2020

ایران: مسجد ماسک بنانے کے کارخانے میں تبدیل

ایران مشرق وسطیٰ کا وہ ملک ہے جو کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ ایران میں اس وبا سے لگ بھگ چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 64 ہزار سے زائد مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
ایسے میں جب ایران کو بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے۔ ملک میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اسپتالوں کے لیے سامان تیار کر رہے ہیں۔ دارالحکومت تہران کی ایک مسجد میں باقاعدہ ایک کارخانہ بنایا گیا ہے جہاں اسپتالوں کے لیے ماسک اور دیگر اشیا تیار کی جا رہی ہیں۔


مزید تصاویر

13:55 9.4.2020

خیبرپختونخوا میں لاک ڈاؤن اور امداد کے منتظر خواجہ سرا

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا میں لاک ڈاؤن کے باعث جہاں دیگر طبقات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ وہیں خواجہ سرا بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

پشاور میں خواجہ سراؤں کی تنظیم کے سربراہ فرزانہ خان کے مطابق نوبت فاقوں تک آن پہنچی ہے۔ اُن کے بقول بہت سے خواجہ سرا کرایے کی رہائش گاہوں میں رہتے تھے۔ لیکن کوئی ذریعہ معاش نہ ہونے کے باعث اب وہ کرایہ دینے سے بھی قاصر ہیں۔ مالک مکان اُنہیں مکان خالی کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

فرزانہ خان کے مطابق صرف پشاور میں خواجہ سراؤں کی تعداد 4500 سے زیادہ ہے۔ پشاور کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی خواجہ سراؤں کی بڑی تعداد مقیم ہے۔ یہ اپنے خاندان سے الگ تھلگ انفرادی طور پر یا ٹولیوں کی صورت میں مختلف رہائشی علاقوں میں کرایے کے کمروں میں رہائش اختیار کرتے ہیں۔

پشاور کے علاقوں ہشت گری، ڈنگری، بھانہ ماڑی، قصہ خوانی، گلبہار، گلبرگ، یونیورسٹی روڈ سمیت مختلف علاقوں میں یہ زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔

کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن سے دیگر مزدور طبقوں کی طرح یہ کمیونٹی بھی مسائل سے دوچار ہے۔ ان کا ذریعہ معاش شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقعوں سے منسلک ہوتا ہے۔ لیکن لاک ڈاؤن کے باعث نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی ہدایت پر ان خواجہ سراؤں کی مدد بھی کی گئی ہے۔ لیکن بہت سے خواجہ سرا اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔

مزید پڑھیے

13:38 9.4.2020

اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو اور شہزاد ٹاؤن ڈی سیل

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے کرونا وائرس کیسز سامنے پر سیل کیے گئے علاقے بھارہ کہو اور شہزاد ٹاؤن کو دوبارہ کھول دیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق بھارہ کہو اور شہزاد ٹاؤن میں ٹیسٹنگ اور نگرانی کے بعد ان علاقوں کو کھول دیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ بلال مسجد، مکی مسجد اور اس سے ملحقہ علاقے بدستور سیل رہیں گے۔ شہزاد ٹاؤن کی گلی نمبر چھ کو بھی لاک ڈاؤن میں رکھا گیا ہے۔

12:40 9.4.2020

پاکستان میں امدادی رقوم کی تقسیم کا عمل جاری

پاکستان کی حکومت کی جانب سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مالی مدد کے لیے 12000 روپے فی خاندان امداد کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ملک بھر میں 17000 مقامات پر یہ ادائیگی کی جا رہی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG