اسلام آباد کا ترامڑی چوک 16 کیسز رپورٹ ہونے پر سیل
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترامڑی چوک کو کرونا وائرس کے 16 مثبت کیسز سامنے آنے کے بعد سیل کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے ٹوئٹ کی ہے کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سماجی دوری کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کووڈ-19 کے کیسز 200 سے متجاوز
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز 200 سے بڑھ گئے ہیں۔ جمعرات کو مزید 24 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں وائرس سے ہلاکتیں چار ہو گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریضوں کی ان افراد سے قریبی تعلق یا رشتہ داری ہے جو پہلے سے ہی اس وائرس کا شکار ہیں۔ بھارتی کشمیر میں 40 ہزار افراد کو زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے۔
جموں و کشمیر کے لگ بھگ سو علاقوں کو 'ریڈ زون' یا 'بفر زونز' قرار دیا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں جراثیم کش اسپرے بھی کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ڈبلیو ایچ او پر ایک بار پھر تنقید
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روک رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ وبا سے متعلق ڈبلیو ایچ او درست اعداد و شمار فراہم نہیں کر سکا۔
صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ عالمی ادارہ صحت پر چین کی طرف جھکاؤ کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ جہاں سب سے پہلے یہ وبا پھوٹی تھی۔
امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کو صدر ٹرمپ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔ لہذٰا امریکہ اس ادارے کے لیے فراہم کی جانے والی فنڈنگ کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ عالمی ادارہ صحت کو فراہم کی جانے والی فنڈنگ جاری کرنے کا فیصلہ کرتے وقت اس کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کی طرف سے عالمی ادارہ صحت پر تنقید مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہی۔ امریکہ اقوام متحدہ کے اس ادارے کو فنڈنگ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کے اہلکار صدر ٹرمپ کی تنقید کو بلاجواز قرار دے رہے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او حکام کا کہنا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے بعد تعین کیا جائے گا کہ اس وبا پر ادارے اور ممالک کا ردعمل کیا تھا۔
ووہان کے شہریوں کو دوسرے شہروں کا سفر کرنے کی اجازت
کرونا وائرس کا مرکز سمجھے جانے والے چین کے وسطی شہر ووہان کے شہریوں کو لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اب دوسروں شہروں کا سفر کرنے کی بھی اجازت مل گئی ہے۔ ووہان میں مکمل لاک ڈاؤن لگ بھگ تین ماہ تک جاری رہا۔
چین کے محکمہ ہوابازی نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز ووہان آنے اور ووہان سے باہر جانے والی پروازوں کی تعداد 221 رہی۔ یہ پہلا دن تھا جب ووہان کے شہریوں کو سفر کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس شہر میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے پل، سرنگیں اور ہائی ویز تین ماہ تک بند رہے۔ تاہم بدھ کو ان راستوں سے پانچ لاکھ شہریوں نے سفر کیا۔
ووہان سے صرف ان شہریوں کو سفر کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جن کے سیل فون پر موجود صحت کے ایپ میں سبز رنگ کا نشان دکھائی دیتا ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ صحت مند ہیں اور سفر کرنے کے قابل ہیں۔