رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:05 10.4.2020

نیویارک میں کرونا وائرس کا زور ٹوٹنے لگا

کرونا وائرس نے سب سے بڑا حملہ امریکی ریاست نیویارک پر کیا ہے۔ یہاں مریضوں کی تعداد دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ ہے، یعنی ایک لاکھ 60 ہزار۔ اموات کی تعداد سینکڑوں میں نہیں، ہزاروں میں ہے۔ اٹلی، اسپین اور فرانس کے سوا کسی اور ملک میں اتنے لوگ نہیں مرے۔

ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو ہر روز میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں۔ ان کی دکھ بھری گفتگو میں کوئی اچھی خبر نہیں ہوتی۔ لیکن جمعرات کو ان کے لہجے میں امید کی جھلک تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اموات کم نہیں ہوئیں، لیکن مریضوں کی تعداد پہلے جیسی رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ شاید یہ اشارہ ہے کہ وبا کا عروج گزر گیا ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں میں نیویارک کے اسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریض پہنچ رہے تھے۔ ہر روز پہلے سے 20 فیصد سے بھی زیادہ۔ اس ہفتے یہ تعداد 10 فیصد سے کم ہوگئی ہے۔

مزید تفصیلات

19:32 9.4.2020

اسلام آباد کا ترامڑی چوک 16 کیسز رپورٹ ہونے پر سیل

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترامڑی چوک کو کرونا وائرس کے 16 مثبت کیسز سامنے آنے کے بعد سیل کر دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے ٹوئٹ کی ہے کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سماجی دوری کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں۔

18:08 9.4.2020

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کووڈ-19 کے کیسز 200 سے متجاوز

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز 200 سے بڑھ گئے ہیں۔ جمعرات کو مزید 24 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں وائرس سے ہلاکتیں چار ہو گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریضوں کی ان افراد سے قریبی تعلق یا رشتہ داری ہے جو پہلے سے ہی اس وائرس کا شکار ہیں۔ بھارتی کشمیر میں 40 ہزار افراد کو زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے۔

جموں و کشمیر کے لگ بھگ سو علاقوں کو 'ریڈ زون' یا 'بفر زونز' قرار دیا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں جراثیم کش اسپرے بھی کیا جا رہا ہے۔

17:50 9.4.2020

صدر ٹرمپ کی ڈبلیو ایچ او پر ایک بار پھر تنقید

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روک رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ وبا سے متعلق ڈبلیو ایچ او درست اعداد و شمار فراہم نہیں کر سکا۔

صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ عالمی ادارہ صحت پر چین کی طرف جھکاؤ کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ جہاں سب سے پہلے یہ وبا پھوٹی تھی۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کو صدر ٹرمپ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔ لہذٰا امریکہ اس ادارے کے لیے فراہم کی جانے والی فنڈنگ کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ عالمی ادارہ صحت کو فراہم کی جانے والی فنڈنگ جاری کرنے کا فیصلہ کرتے وقت اس کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے عالمی ادارہ صحت پر تنقید مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہی۔ امریکہ اقوام متحدہ کے اس ادارے کو فنڈنگ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کے اہلکار صدر ٹرمپ کی تنقید کو بلاجواز قرار دے رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او حکام کا کہنا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے بعد تعین کیا جائے گا کہ اس وبا پر ادارے اور ممالک کا ردعمل کیا تھا۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG