پاکستان میں کرونا متاثرین کی تعداد 4600 سے زیادہ
کرونا وائرس نے تین ہفتوں میں ڈیڑھ کروڑ امریکیوں کو بے روزگار کر دیا
امریکہ میں گزشتہ ہفتے مزید 66 لاکھ افراد نے بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دی ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی محکمہ محنت کو تقریباً اتنی ہی نئی درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جبکہ اس سے پچھلے ہفتے 33 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے تھے۔
اس کی وجہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کیا جانے والا لاک ڈاؤن ہے جس کے نتیجے میں کاروبار، صنعتیں اور دفاتر بند ہیں۔ بیروزگاری الاؤنس کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں ریاست کیلی فورنیا، نیویارک اور پنسلوانیا سے دی گئی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ بیروزگاروں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دینے کی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔
چند ہفتے پہلے تک امریکی معیشت میں بیروزگاروں کی تعداد کئی عشروں میں سب سے کم تھی لیکن اب ان کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 67 لاکھ 80 ہزار ہوچکی ہے۔ یہ خدشات برقرار ہیں کہ آنے والے ہفتوں میں مزید لاکھوں افراد بیروزگار ہوسکتے ہیں جس سے بیروزگاری الاؤنس طلب کرنے والوں میں مزید اضافہ ہوگا۔
کرونا وائرس کا خوف،برتھ کنڑول کے ہزاروں مراکز بند، نتیجہ کیا نکلے گا
افریقی ملک زمبابوے کے دیہی علاقے کی اکثر عورتیں ان دنوں ایک ہی سوال کرتی نظر آتی ہیں کہ برتھ کنٹرول کے دفتر دوبارہ کب کھلیں گے۔ عالمی وبا کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے وجہ جہاں سکول، کاروباری مراکز اور دفاتر بند ہیں، وہاں برتھ کنٹرول کے بہت سے مراکز میں بھی تالے لگ گئے ہیں۔
یہ صرف زمبابوے کا مسئلہ نہیں ہے۔ براعظم افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے بہت سے ملکوں کو بھی لوگوں کو اسی پریشانی کا سامنا ہے۔
زمبابوے میں برتھ کنٹرول سے متعلق ایک ادارے کی ڈائریکٹر ابیبے شبرو کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی اس صورت حال میں دیہاتی علاقوں کے لوگوں کے پاس کچھ اور کرنے کو ہے ہی نہیں۔
افریقہ کے اٹھارہ ملکوں میں قومی پیمانے پر لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ روانڈا قرن صحارا کا پہلا ملک ہے جس نے وائرس کے خطرے کے پیش نظر لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا جس میں اب مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کی غرض سے ان ملکوں میں دیہی علاقوں تک میں خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز کا جال بچھا ہوا ہے۔ مگر اب عملے اور وہاں آنے والی خواتین کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے کلینک بند کر دیے گئے ہیں۔
نیویارک میں کرونا وائرس کا زور ٹوٹنے لگا
کرونا وائرس نے سب سے بڑا حملہ امریکی ریاست نیویارک پر کیا ہے۔ یہاں مریضوں کی تعداد دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ ہے، یعنی ایک لاکھ 60 ہزار۔ اموات کی تعداد سینکڑوں میں نہیں، ہزاروں میں ہے۔ اٹلی، اسپین اور فرانس کے سوا کسی اور ملک میں اتنے لوگ نہیں مرے۔
ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو ہر روز میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں۔ ان کی دکھ بھری گفتگو میں کوئی اچھی خبر نہیں ہوتی۔ لیکن جمعرات کو ان کے لہجے میں امید کی جھلک تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اموات کم نہیں ہوئیں، لیکن مریضوں کی تعداد پہلے جیسی رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ شاید یہ اشارہ ہے کہ وبا کا عروج گزر گیا ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں میں نیویارک کے اسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریض پہنچ رہے تھے۔ ہر روز پہلے سے 20 فیصد سے بھی زیادہ۔ اس ہفتے یہ تعداد 10 فیصد سے کم ہوگئی ہے۔