رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

14:18 11.4.2020

سندھ میں صورتِ حال خراب ہو رہی ہے: وزیر اعلٰی سندھ

پاکستان کے صوبہ سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ 104 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ تعداد صوبے میں ایک روز کے دوران سامنے آنے والے کیسز میں سب سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں صورتِ حال خراب ہوتی جا رہی ہے۔

سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں کل 531 ٹیسٹ کیے گئے جس میں 104 یعنی 20 فی صد مثبت آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ شرح بہت زیادہ اور ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ جب تک لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل ہو رہا تھا، صورتِ حال بہتر تھی۔ وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چھ افراد وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے ضلع ملیر میں لاک ڈاؤن کافی کمزور تھا جس کو مزید سخت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسی طرح حیدرآباد میں بھی کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں بھی لاک ڈاؤن سخت کیا جا رہا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے میں 371 لوگ صحت یاب ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پنجاب کے بعد سب سے زیادہ کرونا وائرس سے متاثرہ صوبہ سندھ ہی ہے جہاں اب تک کل کیسز کی تعداد 1300 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

12:35 11.4.2020

کرونا وائرس اور ایسٹر: پاکستان میں مسیحی برادری کو دوہری مشکل کا سامنا

عامر گِل مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی ہیں جو اسلام آباد کے ایک گھر میں صفائی ستھرائی کا کام کرتے تھے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا تو کچھ دن بعد ہی عامر گِل کو بغیر کوئی نوٹس دیے نوکری سے نکال دیا گیا۔

عامر کے علاوہ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد ایسے ہیں جو روز کما کر کھاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کا روزگار ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث مسیحی برادری کو کافی مشکلات ہیں۔ ایک طرف ان کا روزگار ختم ہو رہا ہے تو دوسری جانب انہیں ایسٹر کے تہوار کی فکر ستا رہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے امداد کا انتظار کرتے عامر گِل نے اپنی کہانی سنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں تک تو عام حالات میں بھی کوئی نہیں پہنچتا اور اب کرونا وائرس کے باعث تو امداد کی فراہمی ویسے ہی مشکل ہے۔

عامر اپنے دو دیگر ساتھیوں کے ساتھ اسلام آباد کے ایک "بڑے سے گھر" میں صفائی کا کام کرتے تھے۔ ان کا زیادہ تر کام مختلف تقریبات کے بعد پورے گھر کو صاف کرنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے

09:44 11.4.2020

خبردار! انٹرنیٹ پر آپ کی نگرانی کی جا رہی ہے

کئی دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے صارفین کے انٹرنیٹ ڈیٹا کی نگرانی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان میں آن لائن پرائیوسی کا کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے انٹرنیٹ فریڈم ایکٹوسٹس اور سوشل میڈیا ماہرین کو اس ڈیٹا کے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔ نخبت ملک کی رپورٹ

خبردار! انٹرنیٹ پر آپ کی نگرانی کی جا رہی ہے
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:48 0:00

09:43 11.4.2020

امریکیوں کا وائرس کے حوالے سے چین کے خلاف مقدمہ دائر

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے دوران، پانچ ہزار سے زیادہ امریکی چین کی حکومت کے خلاف کرونا وائرس سے پہنچنے والے نقصان کے ازالے کیلئے فلوریڈا کی ایک عدالت میں دائر دعوے میں شامل ہوگئے ہیں۔

مدعا علیہان کا کہنا ہے کہ کررونا وائرس کو قابو میں رکھنے میں چین کی لاپرواہی سے انہیں بڑے نقصان کا سامنا ہے۔ اسی قسم کے دعوے ریاست نیواڈا اور ٹیکساس میں بھی دائر کئے گئے ہیں۔

ریاست فلوریڈا میں دعویٰ دائر کرنے والے برمین لا گروپ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دعویٰ ان افراد سے متعلق ہے جنہیں کرونا وائرس سے بیمار ہونے کی وجہ سےجسمانی نقصان پہنچا ہے یا چین کی wet markets ویٹ مارکیٹس کی سرگرمیوں کی وجہ سے، یعنی ایسے بازار جہاں کھلے میں گوشت، مچھلیاں اور سبزیاں فروخت ہوتی ہیں، نقصان پہنچا ہے۔

اس لا فرم نےچین کے خلاف 'فارن سوورینٹی ایمیونٹییز ایکٹ' کے تحت پرسنل اِینجری اور اقتصادی سرگرمیوں میں رکاوٹ کو بنیاد بناتے ہوئے قانونی نکات اٹھائے ہیں۔ تاہم، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ہیسٹنگز لا کالج کے پروفیسر شی مینے کیٹنر اِن قانونی نکات سے متفق نہیں ہیں۔

پروفیسر کیٹنر کہتی ہیں کہ اگر آپ ان تمام مقدمات کا مطالعہ کریں جو اِس ایکٹ کے تحت دائر کئے گئے اور اُن پر فیصلہ آئے تو اس سے آپ پر پوری طرح سے واضح ہو جائے گا کہ پرسنل انجری یا جسمانی نقصان کیلئے کسی چینی عہدیدار کا امریکی علاقے میں موجود ہونا ضروری ہے، اور اس کا براہ راست تعلق اقتصادی سرگرمیوں سے بھی نہیں ہے۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG