کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث کراچی کی 11 یونین کونسلز سیل
سندھ حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کراچی شہر کی 11 یونین کونسل کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ایسٹ کا کہنا ہے کہ ان یونین کونسل کے تحت آنے والے علاقے کے رہائشیوں کو یہاں سے باہر جانے یا یہاں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس اور رینجرز کی نفری ان علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہے۔
ان یونین کونسلز میں یو سی چھ گیلانی ریلوے، یو سی سات ڈالمیا، یو سی آٹھ جمال کالونی، یو سی نو گلشن دو، یو سی 10 پہلوان گوٹھ، یو سی 12 گلزار ہجری، یو سی 13 صفورا، یو سی فیصل کینٹ، یو سی دو منظور کالونی، یو سی نو جیکب لائن، یو سی 10 جمشید کوارٹرز شامل ہیں۔
ڈپٹی کمشنر احمد علی نے بتایا کہ جو لوگ ان علاقوں میں آنا چاہتے ہیں، یا یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں رات 12 بجے تک نقل و حمل کی اجازت دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیل کی گئی یونین کونسلز میں کچھ علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں مشتبہ کیسز کا خدشہ ہے۔ لہذٰا یہاں ٹیسٹنگ کی جائے گی۔
سماجی پابندیاں ہٹانا زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہو گا: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اور سماجی پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ اُن کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہو گا۔ لیکن وہ یہ فیصلہ کرنے سے قبل طبی ماہرین کی رائے کو ضرور مدنظر رکھیں گے۔
جمعے کو وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سماجی پابندیاں نرم کرنے کے لیے ایک ایڈوائزری بورڈ آئندہ ہفتے تشکیل دیں گے۔
ناقدین صدر ٹرمپ پر کرونا وائرس کی وبا کو ابتدائی طور پر دبانے کا الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں۔ البتہ لاک ڈاؤن سے امریکی معیشت کو پہنچنے والے بھاری نقصان کے باوجود وائٹ ہاؤس نے سماجی پابندیاں اپریل کے آخر تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپریل کے بعد صدر ٹرمپ یہ طے کریں گے کہ ان پابندیوں میں توسیع کرنی ہے یا لوگوں کو بتدریج کام کی طرف واپس لانا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ "مجھے معلوم ہے کہ یہ بڑا فیصلہ ہے۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ میں جو بھی فیصلہ کروں، وہ درست ثابت ہو۔"
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکی معیشت کا پہیہ دوبارہ چلے۔ لیکن وہ حقائق کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے 39 کیسز رپورٹ
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 656 ہو گئی ہے۔ صوبے میں 131 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں کرونا کے مزید 39 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کے مشیر اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صوبے میں 32 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مختص کی گئی رقم میں بارہ ارب روپے محکمہ صحت، چھ ارب محکمہ ریلیف، پانچ ارب مختلف ٹیکسوں میں مراعات اور باقی امدادی رقوم کی تقسیم کے لیے رکھے گئے ہیں۔
اجمل وزیر نے بتایا کہ محکمہ صحت کے لیے ڈیڑھ ارب کی لاگت سے حفاظتی سامان خریدا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں 275 قرنطینہ مراکز بنائے گئے ہیں۔ ان میں 18 ہزار افراد کو رکھا جا سکتا ہے۔
صوبے بھر میں 583 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جن کی تعداد کو مزید بڑھایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں ابھی 450 سے زائد ٹیسٹ روزانہ ہو رہے ہیں۔ جن کی تعداد اس ماہ ایک ہزار سے بڑھائی جائے گی۔
کرونا وائرس سے پاکستان میں پہلے افغان مہاجر کی ہلاکت
پاکستان کے صوبہ خيبر پختونخوا کے علاقے مردان ميں مہلک کرونا وائرس کے باعث پہلے افغان مہاجر کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
افغانستان کے صوبہ بغلان سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ افغان مہاجر سات اپریل کو مردان ميڈيکل کمپليکس ميں داخل کرايا گيا تھا۔ اسپتال انتظاميہ کے مطابق انہيں گزشتہ کئی سالوں سے دمہ کی شکايت تھی۔
ہلاک ہونے والے شخص کے بھائی ہجرت نے بتايا کہ ان کا خاندان پاکستان ميں گزشتہ 40 سال سے آباد ہے۔ اور وہ مردان کے علاقہ بغدادہ کے رہائشی ہيں۔
انہوں نے بتايا کہ ان کا بھائی روزگار کے سلسلے ميں اسلام آباد ميں سبزياں بيچتا تھا۔ اور گزشتہ چند دنوں سے انہيں سينے ميں تکليف کی شکايت تھی۔ جس کے بعد وہ انہيں علاج کے سلسلے ميں پہلے پشاور اور بعد ميں مردان ميڈيکل کمپليکس لے گئے۔ ليکن ان کی تکليف بڑھتی گئی۔
ہجرت کے مطابق انہوں نے اپنے بھائی کا روایتی طريقوں سے نمازجنازہ اور بعد ميں فاتحہ خوانی کا انتظام بھی کيا۔ لیکن دوسرے دن شام کو پوليس نے ان کے گھر کا محاصرہ کيا کيونکہ ہمارے بھائی کا بعد از مرگ کرونا وائرس کا ٹيسٹ مثبت آيا تھا۔