رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

12:34 12.4.2020

امریکہ میں 911 کو موصول ہونے والی کالز کی تعداد میں بے پناہ اضافہ

ایک ایسے موقع پر جب کرونا وائرس کی عالمی وبا نے نیویارک کو بری طرح اپنی پکڑ میں لیا ہوا ہے۔ 911 کو موصول ہونے والی کالز کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

سینٹر کا کہنا ہے کہ انہیں ان دنوں ہر 15 سیکنڈز میں ایک کال آتی ہے۔ کال کرنے والے شخص کی آواز بھرائی ہوئی ہوتی ہے جب کہ وہ گڑگڑا کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ اس کا عزیز موت کے منہ میں جا رہا ہے۔ اس کی سانسیں رک چکی ہیں۔ خدارا جلدی سے مدد کریں۔

سینٹر کے مطابق حالیہ دنوں میں کالز کی تعداد معمول سے 40 گنا زیادہ آ رہی ہیں۔ کال کے جواب میں امدادی ٹیم بھیجنے میں ان دنوں 10 منٹ لگ رہے ہیں جب کہ اس سے پہلے 3 منٹ کے لگ جاتے تھے۔

کال وصول کرنے والا سوال پوچھ کر مرض کی سنگینی کا اندازہ لگاتا ہے۔ جن مریضوں کی حالت تشویش ناک نہیں ہوتی انہیں عموماً گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

آج کل کے حالات میں روزانہ 3300 کے لگ بھگ مریضوں کو اسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔ کال سینٹرز کے عملے پر اتنا بوجھ ہے کہ اکثر اوقات انہیں 16گھنٹوں کی شفٹ میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔

مزید جانیے

12:28 12.4.2020

وائرس کا اگلا بڑا نشانہ افریقہ ہوگا؟

عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ افریقہ کے دیہی علاقوں میں کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگر براعظم افریقہ کے کمزور اور خستہ صحت کے نظام پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔

صحت کے عالمی ادارے نے تصدیق کی ہے افریقہ میں اب تک 8300 کیسز رجسٹر ہو چکے ہیں اور 400 کے قریب اموات ہوئی ہیں۔

اب تک دنیا میں جس بڑی تعداد میں کرونا پھیلا ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ تعداد بظاہر کم نظر آتی ہے۔ تاہم یہ خطرہ موجود ہے کہ وائرس اس علاقے کو اپنے چنگل میں لے سکتا ہے۔

عالمی ادار صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے کہا ہے کہ اگر افریقی ممالک کو بروقت بین الاقوامی مدد فراہم نہ کی گئی تو یہ وبا قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

مزید جانیے

12:22 12.4.2020

ملتان کے نشتر اسپتال میں مریض سے ڈاکٹرز اور طبی عملے میں کرونا وائرس منتقل

ڈاکٹرز کی نمائندہ تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے کہا ہے کہ ملتان میں نشتر اسپتال کے طبی عملے اور ڈاکٹرز سمیت 18 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

پی ایم اے کے مطابق یہ ٹیسٹ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب اسپتال میں دم توڑنے والے گردوں کے مرض مبتلا ایک شخص کی ہلاکت کے بعد ہوئے۔

ہلاک ہونے والے شخص کے کرونا سے متاثر ہونے کے شبہے میں ایک دن پہلے ٹیسٹ کیا گیا تھا۔

مریض کی ہلاکت کے بعد آنے والی پورٹس میں اس شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

اس کے بعد ملتان کے نشتر اسپتال کے اس اسٹاف کی نشاندہی کی گئی جو پچھلے چھ دن میں اس مریض کے علاج میں کسی نہ کسی طرح شامل رہا۔

ابتدائی طور نشتر اسپتال کے عملے کے 60 ارکان کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف شامل تھا۔

پی ایم اے ملتان کے مطابق ان میں سے 18 کی کرونا ٹیسٹ کی رپورٹس مثبت آئی ہیں جن میں سے 6 ڈاکٹرز ہیں۔

02:51 12.4.2020

امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں 20 ہزار، دنیا بھر میں سب سے زیادہ

کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ مسلسل جاری ہے اور ہفتے کے روز امریکہ یورپ کے ملک اٹلی کو پیچھے چھوڑ کر ایک ایسا ملک بن گیا ہے جہاں دنیا بھر میں اس عالمگیر مہلک وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ہفتے کی سہ پہر تک امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار سے آگے نکل چکی تھی اور مریض سوا پانچ لاکھ کے قریب تھے، جب کہ ہفتے کے روز اٹلی میں 619 ہلاکتیں ہوئیں جو ایک روز پہلے کے عدد 570 کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اس طرح پہلے جو یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ یورپ میں مہلک وائرس کا زور ٹوٹ رہا ہے، ہلاکتوں اور مریضوں، دونوں کی تعداد میں اضافے سے بکھر گیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورت حال کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مریضوں کی ایک بڑی تعداد کے پیش نظر ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور ماہرین کے یہ اندازے درست ثابت ہو سکتے ہیں کہ امریکہ میں اموات ایک لاکھ سے بڑھ سکتی ہیں۔

امریکہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں نیویارک میں ہوئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سب سے متاثرہ ریاست میں گھروں پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں حالیہ دنوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

ہفتے کے روز نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے اعلان کیا ہے کہ تعلیمی ادارے جو 20 اپریل سے کھلنے تھے، اب پورے تعلیمی سال کے دوران بند رکھے جائیں گے۔

اس وقت امریکہ بھر میں سماجی فاصلے کو قائم رکھنے کے اصول پر عمل کیا جا رہا ہے جس کی میعاد 30 اپریل کو ختم ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اس کے بعد دفاتر کھولنے کا حکم دے کر ملک میں معمول کی زندگی بحال کرتے ہیں یا اس معیاد میں توسیع کرتے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG