- By ضیاء الرحمن
پنجاب کے محکمہ صحت کی لاک ڈاون میں توسیع کی سفارش
کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے پنجاب کے محکمہ صحت نے صوبائی حکومت کو لاک ڈاؤن کو مزید بڑھانے کی سفارش کی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق لاک ڈاؤن کے بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
محکمہ سیکنڈری اینڈ پرائمری ہیلتھ پنجاب کے سیکریٹری محمد عثمان یونس کے مطابق صوبہ پنجاب میں کرونا کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
ان کے بقول محکمہ صحت پنجاب نے حکومت کو لاک ڈاؤن میں مزید اضافے کی سفارش کی ہے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عثمان یونس نے بتایا کہ لاک ڈاؤن میں اضافے کی سفارش کا فیصلہ ماہرین صحت نے ایک اجلاس میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لاک ڈاؤن ختم کر دیا جاتا ہے تو لوگ بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلیں گے۔ جس سے مختلف جگہوں پر رش ہو گا جو ایک خطرناک صورت حال کا باعث بن سکتی ہے۔
سرحد مزید دو ہفتے بند رکھنے کا اعلان
پاکستان کی نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی (این سی سی) نے پاکستان کی تمام سرحدیں مزید دو ہفتے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فیصلے کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے تمام بارڈرز کو مزید دو ہفتے بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے-
سرحد بند رکھنے کا فیصلہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کیا گیا ہے-
سپریم کورٹ کا ڈاکٹر ظفر مرزا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار
پاکستان کی سپریم کورٹ نے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو انہیں ہٹانے کا کہہ دیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا آج حکم دیں گے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ظفر مراز کو عہدے پر ہٹانا تباہ کن ہوگا۔
کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی کابینہ غیر موثر ہو چکی ہے۔ معاونین خصوصی کی فوج کے پاس وزرا کے اختیارات ہیں۔ کئی کابینہ ارکان پر جرائم میں ملوث ہونے کے مبینہ الزامات ہیں۔
سپریم کورٹ میں کرونا وائرس ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے حکومتی ٹیم اور اس کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آ رہی کس قسم کی ٹیم کرونا پر کام کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ حکومتی عہدیداران پر سنجیدہ الزامات ہیں۔ ظفر مرزا کس حد تک شفاف ہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔
- By سہیل انجم
بھارت کے 364 اضلاع کرونا وائرس سے متاثر، ہلاکتیں 308 ہو گئیں
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید 35 ہلاکتیں ہوئی ہیں جب کہ 620 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
بھارت میں ہلاکتوں کی کل تعداد 308 تک پہنچ گئی ہے جب کہ کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد 9152 ہو گئی ہے۔
گزشتہ چار دن میں مزید 80 اضلاع میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے۔ ملک کے کل 364 اضلاع وبا سے متاثر ہیں۔
ریاست مہاراشٹر 1982 کیسز اور 149 ہلاکتوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔
اتر پردیش میں خاتون نے 5 بچوں کو دریا میں پھینک دیا
اترپردیش کے ضلع بھدوہی میں ایک خاتون نے پانچ بچوں کو دریا میں پھینک دیا۔
مبینہ طور پر لاک ڈاون کی وجہ سے خاتون اپنے بچوں کے لیے اشیائے خورد و نوش کا انتظام نہ کر سکی تھیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے بچوں کو دریائے گنگا میں پھینک دیا۔
ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے نہیں بلکہ شوہر سے لڑائی کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا۔
سرکاری دفاتر میں کام شروع
بھارت کے مرکزی وزرا اور حکومت کے اعلیٰ عہدے داروں نے پیر کی صبح سے دفاتر پہنچ کر کام شروع کر دیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اشارہ دیا ہے کہ منگل کے روز ختم ہونے والے 21 روزہ لاک ڈاؤن میں مزید 15 دنوں کی توسیع کی جا سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض علاقوں میں کچھ سہولتیں دی جائیں گی تاکہ معیشت کو جو نقصان ہو رہا ہے اس کا ازالہ کیا جا سکے۔