رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:02 13.4.2020

حفاظتی اقدامات کے ساتھ جنازے کی ادائیگی

خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے بشام میں ہلاک ہونے والے شخص کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

جنازے میں شریک افراد نے سماجی دوری کی ہدایات پر عمل کیا اور مناسب فاصلے پر کھڑے ہو کر جنازے کی نماز ادا کی۔

تمام افراد نے چہروں پر ماسک لگائے ہوئے تھے جب کہ بعض افراد حفاظتی لباس میں بھی ملبوس تھے۔

ہلاک ہونے والے شخص کی میت کو تابوت میں رکھا گیا تھا۔

15:35 13.4.2020

خیبر پختونخوا میں 47 کیسز کا اضافہ، تعداد 744 ہو گئی

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ صوبے میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 744 ہے۔ وبا سے 145 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ 34 کی موت ہوئی ہے۔

سول سیکرٹریٹ پشاور میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے اجمل خان وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں کرونا وائرس کے 47 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

ان کے بقول اب تک مجموعی طور پر 4305 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں کرونا وبا کے ٹیسٹ کرنے کی استعداد پانچ ہزار تک بڑھائی جائے گی۔

انہوں نے مقامی ذرائع ابلاغ پر 1100 زائرین کے غائب ہونے کی خبر کو غلط قرار دیا۔

15:26 13.4.2020

پاکستان میں 65ہزار کرونا ٹیسٹ، 8 فی صد مثبت آئے

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 5374 ہو گئی جب کہ حکومت نے 93 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کی ویب سائٹ 'کوئڈ' کے مطابق پاکستان میں اب تک 65ہزار سے زائد افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 8.2 فی صد ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 336 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی تعداد 5374 ہو گئی ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید سات افراد کی موت کے بعد مجموعی تعداد 93 تک پہنچ گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے 20 فی صد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جن کی تعداد 1095 ہے۔ 44 افراد انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں زیر علاج بتائے گئے ہیں۔

پاکستان میں سب سے زیادہ اموات خیبر پختونخوا میں 34 ہوئی ہیں جب کہ سندھ میں 30، پنجاب میں 23، گلگت بلتستان میں تین، بلوچستان میں دو اور اسلام آباد میں ایک ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

14:50 13.4.2020

خیبر پختونخوا میں لاک ڈاؤن کے مستقبل کے بارے میں ابہام

پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا میں مارچ کے تیسرے ہفتے سے جاری لاک ڈاؤن کا دورانیہ منگل کو ختم ہو رہا ہے۔

صوبائی حکومت نے لاک ڈاؤن جاری رکھنے یا ختم کرنے کے بارے میں واضح اعلان نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے تجارتی اور کاروباری حلقوں میں کافی ابہام پایا جاتا ہے۔

خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے تجارتی اور کاروباری تنظیموں کا ایک اجلاس گزشتہ جمعے کو ہوا تھا جس میں لاک ڈاؤن کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اجلاس میں شریک مختلف تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے جاری رہنے سے ان کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ اس لئے اس پر نظر ثانی کی جائے۔

پاکستان فیڈرل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سیکریٹری جنرل حاجی غلام علی جو اجلاس میں شریک تھے، نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ لاک ڈاؤن کے لیے طریقہ کار وضع کرے۔ تمام تاجر اور دکان دار اس طریقہ کار پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے کے پابند ھوں گے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مختلف اسپتالوں میں خدمات سر انجام دینے والے ڈاکٹرز اور طبی ماہرین کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال کے پیش نظر لاک ڈاؤن جاری رکھنے کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG