- By محمد ثاقب
وزیراعلیٰ سندھ کا لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ وفاق کو کرنے پر زور
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انہیں ماہرین نے کرونا وائرس کی وباء پر قابو پانے کے لیے مزید دو ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن کو بڑھانے کی تجویز دی ہے۔
سید مراد علی شاہ کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی سطح پر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فیصلے پر عمل درآمد میں کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہر فیصلہ کرسکتے ہیں مگر اس معاملے پر اکیلے فیصلہ نہیں کریں گے۔ اس پر وفاق تمام لوگوں کی مشاورت سے فیصلہ کرے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے امداد امید سے کم ملی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے مسئلے پر وہ اکیلے بیٹھ کر فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اگر وفاقی سطح پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ بروقت کرلیا جاتا تو آج جیسی صورت حال نہ ہوتی۔
ان کے بقول اس معاملے پر قومی سطح پر ایکشن پلان بنانے کی ضرورت ہے۔
- By ضیاء الرحمن
پنجاب کے محکمہ صحت کی لاک ڈاون میں توسیع کی سفارش
کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے پنجاب کے محکمہ صحت نے صوبائی حکومت کو لاک ڈاؤن کو مزید بڑھانے کی سفارش کی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق لاک ڈاؤن کے بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
محکمہ سیکنڈری اینڈ پرائمری ہیلتھ پنجاب کے سیکریٹری محمد عثمان یونس کے مطابق صوبہ پنجاب میں کرونا کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
ان کے بقول محکمہ صحت پنجاب نے حکومت کو لاک ڈاؤن میں مزید اضافے کی سفارش کی ہے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عثمان یونس نے بتایا کہ لاک ڈاؤن میں اضافے کی سفارش کا فیصلہ ماہرین صحت نے ایک اجلاس میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لاک ڈاؤن ختم کر دیا جاتا ہے تو لوگ بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلیں گے۔ جس سے مختلف جگہوں پر رش ہو گا جو ایک خطرناک صورت حال کا باعث بن سکتی ہے۔
سرحد مزید دو ہفتے بند رکھنے کا اعلان
پاکستان کی نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی (این سی سی) نے پاکستان کی تمام سرحدیں مزید دو ہفتے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فیصلے کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے تمام بارڈرز کو مزید دو ہفتے بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے-
سرحد بند رکھنے کا فیصلہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کیا گیا ہے-
سپریم کورٹ کا ڈاکٹر ظفر مرزا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار
پاکستان کی سپریم کورٹ نے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو انہیں ہٹانے کا کہہ دیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا آج حکم دیں گے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ظفر مراز کو عہدے پر ہٹانا تباہ کن ہوگا۔
کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی کابینہ غیر موثر ہو چکی ہے۔ معاونین خصوصی کی فوج کے پاس وزرا کے اختیارات ہیں۔ کئی کابینہ ارکان پر جرائم میں ملوث ہونے کے مبینہ الزامات ہیں۔
سپریم کورٹ میں کرونا وائرس ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے حکومتی ٹیم اور اس کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آ رہی کس قسم کی ٹیم کرونا پر کام کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ حکومتی عہدیداران پر سنجیدہ الزامات ہیں۔ ظفر مرزا کس حد تک شفاف ہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔