امریکہ: 'معمول کی زندگی کے لیے عجلت سے وائرس پھیلنے کا شدید خطرہ'
امریکہ میں متعدی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اگر کاروبار اور معمول کی زندگی شروع کرنے کے لیے عجلت کی گئی تو کرونا وائرس کے مزید پھیلنے کا شدید خطرہ ہو گا۔
دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ میں معمول کی زندگی یکم مئی سے بحال کرنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔
انتھونی فاؤچی نے نشریاتی ادارے 'سی این این' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی خاطر سماجی فاصلے کی پابندی 30 اپریل سے ختم کرنے کی صورت میں خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ آئندہ ماہ کسی وقت ملک میں کاروباری سرگرمیاں کسی قدر بحال کی جا سکیں گی تاہم اس کی صورت حال ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف ہو گی۔
انتھونی فاؤچی کے مطابق کاروباری سرگرمیاں کھولنے کا انحصار کرونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد پر ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی تدابیر کے باوجود مزید لوگ اس وائرس میں مبتلا ہوں گے۔
خیال رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے اب تک 22ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں جب کہ 56 ہزار مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
تخمینوں کے مطابق امریکہ میں جولائی تک ہلاکتوں کی تعداد 60ہزار سے بڑھ سکتی ہے۔
'لوگ ڈرے ہوئے تھے، اس لیے خود جنازہ پڑھایا'
خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں تعینات ڈاکٹر ثناء اللہ نے کرونا کے باعث انتقال کرجانے والے ایک مریض کو غسل دینے کے بعد نہ صرف جنازہ خود پڑھایا بلکہ تدفین بھی خود کی۔ ڈاکٹر ثناء اللہ کے بقول مقامی لوگ خوف کا شکار تھے جس کے باعث انہوں نے میت کی آخری رسومات خود ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
جنوبی کوریا: اقتصادی اور سماجی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے نئی ہدایات
جنوبی کوریا کے وزیر اعظم چنگ سوئے کیون نے کہا ہے کہ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کچھ اقتصادی اور سماجی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی جائیں۔
خیال رہے کہ جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ پیر کو کرونا وائرس کے صرف 25 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
جنوبی کوریا میں اب تک 10 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ وبا سے 217 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ 7447 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ 2873 افراد زیر علاج ہیں۔
اسپین میں عائد پابندیوں میں نرمی
اسپین میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عائد پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں جب کہ پیداواری اور تعمیراتی شعبے کے کارکنوں کو کام پر واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اسپین میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ حکام نے کمپنیوں کو پابند کیا ہے کہ وہ ملازمین کو حفاظتی سامان فراہم کریں جب کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے ملازمین کام پر دو میٹر کا سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔
اسپین ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔
کرونا وائرس کے ایک لاکھ 70 ہزار کے قریب تصدیق شدہ کیسز اسپین میں سامنے آ چکے ہیں جب کہ حکام نے 17000 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات صرف صحت عامہ پر ہی نہیں بلکہ معیشت اور سماجی زندگی پر بھی پڑے ہیں۔
ان کے بقول ایسے اقدامات جاری رکھنا ہوں گے جن سے اس وبا کو روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کو مکمل تباہی سے روکنا بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس سے ملک میں روزگار بھی شدت سے متاثر ہوا ہے۔