گزشتہ تین ہفتوں میں اٹلی میں اموات کی کم ترین شرح
اٹلی میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی شرح کم ترین درجہ پر ہے۔ اٹلی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انتہائی نگہداشت میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے۔
اٹلی، یورپ کا وہ ملک ہے جسے کرونا وائرس نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، اور یہاں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 56 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم، اٹلی کے چند ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس سے ہوئی اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بوڑھے افراد کیلئے قائم سینٹروں میں، بہت سی ایسی ہلاکتیں ہوئیں جن کے ٹیسٹ نہیں ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے، دی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کرونا وائرس کے مریضوں اور اس سے ہلاک ہونے والوں کے اعداد خود مرتب کر رہا ہے۔ اے پی نے خبر دی ہے کہ امریکہ میں بوڑھے افراد کیلئے بنائے گئے نرسنگ ہومز میں اپریل کے اوائل میں اموات میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ تعداد 3300 تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم اٹلی ہی کی طرح، یہاں بھی ہلاکتوں کے درست اعداد شاید سامنے نہ آ سکیں کیونکہ بہت سے معمر افراد، ٹیسٹ ہونے سے پہلے ہی ہلاک ہو گئے۔
امریکہ کی گولڈن ریاست کرونا وائرس کا مقابلہ کیسے کر رہی ہے
کیلی فورنیا میں کووڈ ٹیم اور سٹیٹ ہیلتھ بورڈ کے رکن پلمونالوجسٹ ڈاکٹر آصف محمود کہتے ہیں کہ "کیلی فورنیا کی انتظامیہ نے کرونا وائرس کو روکنے کے جو اقدامات کئے ان سے بہت فائدہ ہوا۔
ان کے بقول، نہ صرف گورنر نے جلد اقدامات کئے بلکہ جو مقامی مئیر تھے انہوں نے بھی فوری ایکشن لیا۔ ان میں سین فرانسسکو، لاس اینجلس اور دیگر بڑے شہروں کے مئیر شامل ہیں۔ اور پھر انہیں ریاست کی مدد بھی حاصل تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت کیلیفورنیا اس قابل ہے کہ اس نے پانچ سو وینٹیلیٹر نیویارک کو دیئے ہیں اور کولوراڈو اور وسکانسن کو بھی دئیے ہیں۔ اور پھر بھی اتنے وینٹی لیٹر بچ رہے ہیں کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو تو استعمال کیے جا سکتے ہیں۔"
کیلی فورنیا کا موسم اکثر معتدل رہتا ہے۔ موسمِ گرما خشک اور گرم اور سرما میں بعض علاقوں میں برف باری بھی ہو جاتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اب تک یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ موسم گرم ہو گا تو کرونا وائرس کی عالمی وبا کے اثرات بھی کم ہو جائیں گے۔
مگر ڈاکٹر آصف محمود کہتے ہیں کہ یہ محض خیال ہے کہ فلو کی طرح یہ وائرس موسم گرم ہوتے ہی ختم ہو جائے گا۔ بلکہ جن علاقوں میں موسم گرم تھا ان میں بھی یہ وائرس پھیلا ہے۔ تاہم یہ امید ضرور کی جا رہی ہے کہ ہو سکتا ہے جون یا جولائی میں اس کا زور کم ہو جائے اور پھر موسمِ خزاں میں یہ پھر ابھر کر آئے۔
کون سے ملک کرونا وائرس سے جنگ جیت رہے ہیں
کرونا وائرس سے یورپ میں 80 ہزار اور امریکہ میں 23 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہر ملک کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے کیسے بچایا جائے۔ تشویش ناک حالات میں چند ممالک ایسے ہیں جنھوں نے فوری طور پر درست فیصلے کر کے اپنے شہریوں کو بڑی حد تک عالمگیر وبا سے بچالیا ہے۔
صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ، مریضوں کو قرنطینہ میں رکھنے اور عوام کی نقل و حرکت کو روکنے ہی سے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ جاننے کے باوجود کئی ملک اس پر عمل نہیں کر رہے جس کا نتیجہ زیادہ مریضوں اور ہلاکتوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔
کرونا وائرس سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں ظاہر ہوا اور اس نے دوسرے ملکوں سے پہلے چین میں ہزاروں افراد کو متاثر کیا۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہانگ کانگ نے کس طرح خود کو اس وائرس سے بچایا۔ وہاں اب تک 96 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں صرف ایک ہزار مثبت آئے اور اب تک فقط چار اموات ہوئی ہیں۔
سنگاپور نے بھی بہت جلد صورت حال کو بھانپ لیا تھا۔ وہاں اب تک 72 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں, جن میں 2900 کیسز کی تصدیق ہوئی اور اب تک 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستان کا سرحدیں مزید دو ہفتے بند رکھنے کا فیصلہ
پاکستان نے کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر اپنی بین الاقوامی سرحدوں کو مزید دو ہفتوں کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان کی وزارت داخلہ نے پیر کو ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ سرحدوں کو بند رکھنے کا فیصلہ پیر کو ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق سرحدوں کی بندش برقرار کا فیصلہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ کرونا وائرس کی وبا کے سبب ہمسایہ ممالک چین، بھارت، افغاستان اور ایران کے ساتھ سرحد بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اسلام آباد نے گزشتہ ہفتے افغان حکومت کی درخواست پر پاک افغان سرحد کو چار دن کے لیے کھولا تھا تاکہ پاکستان میں پھنسے افغان شہری واپس جا سکیں۔