- By جمشید رضوانی
لاک ڈاؤن کے دوران پڑھنے کے لیے مفت کتابیں دینے والا پبلشر
کرونا وائرس کے سبب جاری لاک ڈاؤن میں جہاں مخیر حضرات لوگوں کی مالی امداد کر رہے ہیں، وہیں ملتان کے ایک پبلشر لوگوں کو وقت گزاری کا بہترین مصرف فراہم کر رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو کتابیں مفت فراہم کر رہے ہیں تاکہ لاک ڈاؤن میں میسر فارغ وقت میں لوگ کتابوں سے مستفید ہو سکیں۔ دیکھیے جمشید رضوانی کی رپورٹ
- By ضیاء الرحمن
پنجاب میں 43 مختلف کاروبار کھولنے کی اجازت
محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے صوبے بھر میں 43 مختلف کاروبار اور صنعتیں کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق صوبے بھر میں کرونا سے متاثرہ کیسوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ تاہم احتیاطی تدابیر کے ساتھ مخصوص کاروباری مراکز کھولے جا سکیں گے۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ سرکاری دفاتر، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر، ضروری خدمات سر انجام دینے والے دفاتر، ٹیلی کام کمپنیاں، دفاعی ساز و سامان بنانے والی صنعیتں، آئی ٹی کمپنیاں، سیکورٹی اینڈ ایکسچیینج کمیشن اور اِس کے ذیلی ادارے کھلیں گے۔
اسی طرح محکمہ صحت کے دفاتر، لیبارٹریاں، ادوایات بنانے والے کارخانے، کیمیکلز انڈسٹری، پلمبرز، رنگ ساز، الیکٹریشن، درزی، ویٹرنری سروسز، رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی ڈیلر دفاتر کھول سکتے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسٹیشنری و کتب کی دکانیں، شیشہ سازی کے یونٹس، پیپر اینڈ پیکیجنگ، پودوں کی نرسریاں، اشیا خور و نوش کی دکانیں، دودھ دہی کی دکانیں،سبزی اور پھل کی دکانیں، پیٹرول پمپس، ایل پی جی کے اسٹورز اور خیراتی دفاتر پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام بڑے کاروبای مراکز، شاپنگ مالز، بڑے ہوٹل، پبلک ٹرانسپورٹ، شادی ہالز، چھوٹے بڑے تمام تعلیمی ادارے، کالجز، یونیورسٹیاں، دینی مدارس، ٹیکنیکل ایجوکشن کے ادارے، جم خانے، اسنوکر کلبز اور امتحانات لینے والے ادارے بند رہیںں گے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق ہر قسم کی تقریبات، محافل، دینی اور دنیاوی ہجوم پر پابندی برقرار رہے گی۔
پاکستان میں ہلاکتیں 100 سے متجاوز
عالمی ادارۂ صحت کی امداد روکنے کا اعلان
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کرونا وائرس بحران میں اس ادارے نے انتہائی بدنظمی کا مظاہرہ کیا اور اس کے پھیلاؤ کو چھپایا۔
وائٹ ہاؤس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ڈبلیو ایچ او کی نااہلی کی وجہ سے دنیا میں کرونا وائرس کے کیسز 20 گنا زیادہ ہوئے۔ وہ اپنی بنیادی ذمے داری انجام دینے میں ناکام رہا، اس لیے اس کا احتساب ہونا چاہیے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ڈبلیو ایچ او نے چین پر سفری پابندیاں لگانے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
فروری تک ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ جن ملکوں میں کرونا وائرس کے کیسز ہیں، وہاں سفری پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کا مؤثر طریقہ نہیں ہے۔