فرانس میں وائرس سے اموات میں پھر اضافہ
فرانس میں چند دن تک اموات میں کمی کے بعد ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں بدھ کو کرونا وائرس کے 1438 مریض ہلاک ہوگئے۔ اسپین، اٹلی اور ایران میں یومیہ اموات نسبتاً کم ہوئی ہیں، جبکہ برازیل، سویڈن اور کینیڈا میں ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 20 لاکھ 75 ہزار اور اموات کی تعداد ایک لاکھ 34 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔
24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 761، اٹلی میں 578، اسپین میں 453، جرمنی میں 309، بیلجیم میں 283، برازیل میں 225، نیدرلینڈز میں 189، سویڈن میں 170، ترکی میں 115 اور کینیڈا میں 103 افراد دم توڑ گئے۔ ایران میں 94، میکسیکو میں 74 اور سوئزرلینڈ میں 65 افراد چل بسے۔
جاپان: ہلاکتوں میں سنگین اضافے کا انتباہ
جاپانی میڈیا میں آنے والی خبروں کے بعد کہ اگر ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو کرونا وائرس سے چار لاکھ کے قریب شہری ہلاک ہو سکتے ہیں، جاپان نے بدھ کو اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعظم شنزو ایبے پر مزید رقم دینے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
جاپان میں صرف اُن لوگوں کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں جن میں کرونا وائرس کی علامات موجود ہوں۔ اب تک ملک میں 8000 افراد وائرس سے متاثر اور تقریباً 200 ہلاک ہوئے ہیں۔
جاپانی میڈیا نے محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ملک میں ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ تک پہنچ سکتی ہے اور ساڑھے آٹھ لاکھ افراد کو وینٹی لیٹروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں جاپان میں وائرس سے بیمار ہونے والوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ ہنگامی اقدامات میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور کاروبار بند کردیے گئے ہیں۔ تاہم، خلاف ورزی پر کسی قسم کی سزا یا جرمانہ عائد نہیں کیا گیا۔
جنگ عظیم کا سپاہی وائرس کے خلاف محاذ پر
ننانوے سالہ ٹام مور دوسری جنگ عظیم کے سابق فوجی ہیں۔ اب وہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کی قومی ہیلتھ سروس کے لیے فنڈ جمع کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
وہ دراصل ان ڈاکٹروں اور نرسوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں جو کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ وہ ڈاکٹروں اور نرسوں کے شکر گذار ہیں جنہوں نے عشروں پہلے ان کے ٹوٹے ہوئے کولہوں کو جوڑا تھا۔
ان کے گھر والوں نے سوشل میڈیا پر ان کے نام سے اپیل کی ہے کہ مور ہیلتھ ورکرز کے لیے فنڈ جمع کرنا چاہتے ہیں۔ آپ سے مدد کی درخواست ہے۔
پچھلے ہفتے تک ان کا اور گھر والوں کا خیال تھا کہ تیس اپریل تک ایک ہزار پاونڈ جمع ہو جائیں گے۔ لیکن سوشل میڈیا پر عوام و خواص کا رد عمل غیر معمولی تھا۔ چند ہی دنوں میں پچھتر لاکھ پاوںڈ کے وعدے کیے ہیں۔
مور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس کو دی جانے والی ایک ایک پائی ان ہیلتھ ورکرز کا حق ہے۔
ورجینیا کے نرسنگ ہوم میں کرونا وائرس سے 45 اموات
بہت سے لوگ ہوں، مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوں اور مل کر رہتے ہوں۔ وائرس اس سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہتا۔ یہ الفاظ ہیں ڈاکٹر جم رائٹ کے، جو امریکی ریاست ورجینیا کے شہر رچمنڈ میں ایک نرسنگ ہوم کے میڈیکل ڈائریکٹر ہیں۔
اس نرسنگ ہوم کا نام 'کینٹربری ری ہیبیلی ٹیشن اینڈ ہیلتھ کئیر سینٹر' ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس مرکز کے 160 میں سے 45 رہائشی کرونا وائرس کا شکار ہو کر چل بسے ہیں، جب کہ مزید درجنوں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
امریکہ میں کرونا وائرس رچمنڈ سے ہزاروں میل دور ریاست واشنگٹن سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور کرک لینڈ کا 'لائف کئیر نرسنگ ہوم' اس کا پہلا نشانہ تھا۔ لیکن وہاں 43 یعنی رچمنڈ سے کم اموات ہوئی تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کینٹربری امریکہ میں سب سے زیادہ ہلاکتوں والا نرسنگ ہوم بن گیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، امریکہ بھر میں کم از کم ڈھائی ہزار نرسنگ ہوم یا عمر رسیدہ افراد کے مراکز ایسے ہیں جہاں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔ ان میں قیام پذیر افراد اور عملے کے 21 ہزار ارکان میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان میں سے 3800 ہلاک ہوچکے ہیں۔
ریاست نیویارک میں کرونا وائرس سے 2700 یعنی ایک چوتھائی اموات نرسنگ ہومز ہی میں ہوئی ہیں۔ ان مراکز کو ریفریجریٹر ٹرکس منگوانے پڑے جہاں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں رکھنا پڑیں، کیونکہ مردہ خانوں یا فیونرل ہومز میں جگہ نہیں تھی۔