صدر ٹرمپ کا معیشت جلد کھولنے کا اعلان
امریکہ میں مسلسل دوسرے روز کرونا وائرس کے شکار مزید دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو لاک ڈاؤن ختم کرنے کا منصوبہ پیش کریں گے۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے اعداد و شمار جمع کرنے والے امریکی ادارے جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار 925 ہو گئی ہے۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ منگل کو ہلاکتوں کی یہ تعداد 28 ہزار سے زائد تھی جو بدھ کو بڑھ کر 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ملک کی معیشت کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے جمعرات کو ایک منصوبہ بھی پیش کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکہ میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور نئے کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان میں ایک روز میں سب سے زیادہ کیسز
جی 20 ممالک افریقہ کو قرضوں کی واپسی میں چھوٹ دینے کو تیار
فرانس نے کہا ہے کہ جی ٹونٹی گروپ کے ملک اس سال ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی ادائیگی جزوی طور پر معطل کر دینے پر راضی ہو گئے ہیں، جن میں زیادہ تر افریقی ممالک شامل ہیں۔
فرانس کے صدر میکخواں نے قوم سے خطاب میں کہا کہ فرانس اور یوروپی یونین کو افریقی ممالک کو کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں مدد دینے کے لئے قرضوں میں بڑے پیمانے پر چھوٹ دینی چاہئیے۔ خیال رہے کہ پوپ فرانسس نے بھی اسی قسم کی اپیل کی ہے۔
گزشتہ ہفتے فرانس نے افریقہ کے لئے کرونا وائرس کی مد میں امداد کے لئے ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کا وعدہ کیا تھا، جبکہ یورپین کمشنر عرسولہ ون لین نے ترقی پذیر ملکوں کے لئے سولہ ارب ڈالر سے زیادہ مدد کا اعلان کیا ہے۔ لیکن، دونوں ہی صورتوں میں یہ موجودہ فنڈز میں بس رد و بدل کی صورت میں ہی ہو گا۔
خیال رہے کہ افریقہ میں ابھی کرونا وائرس کا شکار ہونے والوں کی تعداد کم ہے لیکن ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس میں ڈرامائی تبدیلی آسکتی ہے۔ ایک ایسے بر اعظم کے لئے ممکنہ طور پر خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں جہاں صحت کا انتظام انتہائی ناکافی ہے اور جہاں لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اور جہاں کے لئے اقوام متحدہ پہلے ہی پیشگوئی کر چکی ہے کہ افریقہ میں مجموعی طور پر اس سال اقتصادی شرح نمو آدھی رہ جائے گی۔
امریکہ میں لاک ڈاون ختم کرنے کے معاملے پر سیاسی طوفان
امریکہ کے مختلف حصوں میں کرونا وائرس بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے میں، ملک میں ایک نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے اور وہ یہ کہ امریکہ میں کاروبار زندگی کا دوبارہ آغاز کب کیا جائے۔
سیاستدان، اقتصادی اور طبی ماہرین سب ہی اس بحث میں مصروف ہیں کہ آنے والے ہفتوں میں کیا یہ محفوظ ہوگا کہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر معمولات زندگی شروع کریں اور اسکول کھول دیئے جائیں۔ لیکن، اس سے پہلے کہ کوئی فیصلہ کیا جائے، سیاسی رہنما اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ اس کے بارے میں فیصلے کا اختیار کسے حاصل ہے۔
نیویارک کے اینڈریو کومو اور دوسرے گورنر حضرات مل کر ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی تحت ان کی ریاستوں میں گھروں پر رہنے کی بندش کو دھیرے دھیرے نرم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ کرونا وائرس سے نیویارک کی ریاست سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔