دنیا بدترین کساد بازاری کی لپیٹ میں
کرونا وائرس کی عالمی وبا کے نتیجے میں دنیا بھر کے ممالک بدستور شدید کساد بازاری کی لیپٹ میں آ رہے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ بیروزگار ہورہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال روز بروز سنگین ہوتی نظر آرہی ہے اور اب مزید کمپنیاں ایسے ملازمین کو بھی جو وائٹ کالر کارکنوں کے زمرے میں شمار کئے جاتے ہیں بغیر تنخواہ کے گھر بھیج رہی ہیں۔ اندیشہ ہے کہ آنے والے ہفتوں میں جب معیشت پر کرونا وائرس کے اثرات پوری طرح ظاہر ہوں گے، اس تعداد میں لاکھوں کا اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔
بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت اس سال کی پہلی سہ ماہی میں دس اعشاریہ آٹھ فیصد تک سکڑ گئی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یہ سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
امریکہ بھر میں تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار اسٹور بند ہوگئے ہیں جو ملک کا لگ بھگ نصف بنتے ہیں۔ ریٹیل اسٹورز کے علاوہ ریستورانوں، ورزش گاہوں اور ٹریول کے کاروبار خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن۔ کارکنوں کی چھانٹیاں منیو فیکچرنگ، ٹرانسپورٹیشن اور دوسرے شعبوں میں بھی بہت زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
تین بڑی ریٹیل کمپنیوں یعنی میسیز، کوہل اور گیپ نے مجموعی طور پر دو لاکھ نوے ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا ہے، جبکہ دوسری بڑی ریٹیل کمپنیوں نے ہزاروں کو بغیر تنخواہوں کے گھر بھیج دیا ہے۔
چین نے امریکی کمپنیوں کا طبی ساز و سامان روک لیا
امریکی محکمہ خارجہ کی ایک حالیہ دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ چین نے امریکی کمپنیوں کا انتہائی اہم طبی ساز و سامان معیار کی جانچ کے نام پر روک لیا ہے۔
متعدد امریکی کمپنیاں معاہدے کے تحت چین کے کارخانوں سے سامان بنواتی ہیں اور اسے امریکہ اور دوسرے ملکوں میں اپنے صارفین کو فراہم کرتی ہیں۔ ان میں طبی ساز و سامان بنانے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ کی ضرورت کا سامان چینی گوادموں میں پڑا ہے اور اسے نئی رکاوٹوں کے باعث روانہ نہیں کیا جا رہا۔
واشنٹگن کے چینی سفارت خانے نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا کو طبی ساز و سامان کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے چین کو بڑی تعداد میں برآمدات کی جانچ پڑتال اور کوالٹی کنٹرول کے چیلنج کا سامنا ہے۔
امریکہ کے تجارتی نمائندے لائٹ ہائزر نے چند دن پہلے کہا تھا کہ ''بدقسمتی سے ہم نے اس بحران سے یہ سبق سیکھا ہے کہ سستی میڈیکل مصنوعات کے لیے دوسرے ملکوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا''۔
امریکہ میں چار ہفتوں کے دوران سوا دو کروڑ افراد بے روزگار
امریکہ میں بیروزگار ہوجانے والوں کی تعداد میں ہر ہفتے دسیوں لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے اور چار ہفتوں میں یہ تعداد سوا دو کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ دوسری جانب، حکومت نے کروڑوں ٹیکس گزاروں کو ریلیف دینے کے لیے ان کے بینک اکاؤنٹس میں 1200 ڈالر فی کس جمع کرائے ہیں۔ لیکن، لاکھوں محروم بھی رہ گئے ہیں۔
محکمہ محنت کے مطابق، گزشتہ ہفتے ملک بھر میں 52 لاکھ افراد نے بیروزگاری انشورنس کلیم داخل کیے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چار ہفتے پہلے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے ہفتے میں 69 لاکھ اور تیسرے ہفتے میں 66 لاکھ افراد نے بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دی تھی۔
امریکہ میں 2008 کی معاشی کساد بازاری کے بعد فروری 2010 سے فروری 2020 تک روزگار کے 2 کروڑ 28 لاکھ مواقع پیدا ہوئے تھے۔ لیکن اب ایک ماہ میں بیروزگار ہوجانے والوں کی تعداد 2 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے، جس نے ایک عشرے کی معاشی ترقی پر پانی پھیر دیا ہے۔
کرونا وائرس کب ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے؟
کرونا وائرس پر ہونے والی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بیماری کی علامتیں ظاہر ہونے سے پہلے ہی وائرس متاثرہ شخص سے صحت مند افراد میں منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے اور علامتیں ظاہر ہونے سے تقریباً ڈھائی دن پہلے اس کی منتقلی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔
سائنسی جریدے، نیچرمیڈیسن میں 15 اپریل کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے ہر 10 میں سے 4 سے زیادہ کیسز میں وائرس اس وقت منتقل ہوا جب وائرس پھیلانے والا شخص بظاہر صحت مند تھا۔
ایک حالیہ تحقیق کے بعد سائنس دانوں نے کہا ہے کہ وائرس لگنے کے بعد انسانی جسم میں وہ پھیلنا اور بڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ مرض کی علامتیں ظاہر ہونے سے دو سے تین روز پہلے وائرس کا پھیلاؤ اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں میں منتقلی کے لیے تیار ہوتا ہے۔
سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ 44 فی صد کے لگ بھگ لوگوں میں وائرس اس وقت منتقل ہوتا ہے جب وائرس پھیلانے والے شخص میں مرض کی کوئی علامت نہیں ہوتی۔
سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے چین کے گوانگ زو ایٹتھ پیپلز ہاسپٹل میں 21 جنوری سے 14 فروری کے دوران کرونا وائرس کے 94 مریضوں سے انفکشن کے سیمپل حاصل کیے۔ لیبارٹری تجزیے سے پتا چلا کہ وائرس کی نشوونما مرض کی علامتیں ظاہر ہونے سے دو تین روز پہلے اپنے عروج پر پہنچ گئی اور اگلے 21 روز میں وائرس کی شدت کم ہوتی چلی گئی۔
کرونا وائرس کے 77 مریضوں پر کی گئی ایک اور تحقیق سے ماہرین کو معلوم ہوا کہ علامتیں ظاہر ہونے سے ڈھائی دن پہلے اور تقریباً 16 گھنٹے قبل تک وائرس کی قوت اپنے عروج پر ہوتی ہے اور اس عرصے میں متاثرہ شخص بڑے پیمانے اپنا وائرس صحت مند لوگوں میں منتقل کرسکتا ہے۔