لاک ڈاؤن میں حجام گھروں پر بال کاٹتے رہے
پاکستان میں لاک ڈاون میں نرمی کے بعد درزی، حجام اور پلمبر جیسے ہنرمندوں کو کام شروع کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ پشاور میں حجاموں اور بیوٹی سیلون مالکان نے بندش کا عرصہ کیسے گزارا اور کاروبار کی مکمل بحالی کے بارے میں کتنے پر امید ہے؟ دیکھئے نذر السلام کی رپورٹ
ٹک ٹاک: والدین بچوں پر پابندیاں لگا سکیں گے
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹک ٹاک' نے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے۔ جس کے ذریعے والدین اپنے بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر پابندیاں لگا سکیں گے۔
نئے متعارف کرائے جانے والے فیچر 'فیملی پیئرنگ' میں والدین اپنے اکاؤنٹس، اپنے بچوں کے اکاؤنٹس سے منسلک کرسکیں گے۔ تاہم اس فیچر کو ایکٹیویٹ کرنے کے لیے لازم ہے کہ بچے اپنے اکاؤنٹس، والدین کے اکاؤنٹس کے ساتھ منسلک کرنے پر راضی ہوں۔
ٹک ٹاک کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو کے مطابق والدین کی بچوں کو موصول ہونے والے پیغامات تک براہ راست رسائی ہوگی اور والدین اپنے بچوں کے لیے مواد کا تعین کرسکیں گے۔
امریکہ سمیت تمام ممالک میں متعارف کرائے گئے نئے فیچر کے ذریعے سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کو براہ راست پیغامات نہیں بھیجے جا سکیں گے۔
اس سے پہلے اسی طرح کا فیچر ‘فیملی سیفٹی موڈ’ متعارف کرایا گیا تھا۔ جو کہ برطانیہ کے سارفین کے لیے بھی تھا۔
مزید پڑھیے
قرنطینہ سے اب ’قوارنٹیمنگ’ ہونے لگی ہے
کرونا وائرس کے دوران قرنطینہ کی تنہائی سے بچنے کے لیے لوگ اپنے دوستوں، رشتے داروں کے گھروں میں رہنے لگے ہیں۔ اس عمل کو #Quaranteaming یعنی قوارنٹیمنگ کا نام دیا گیا ہے۔
وہ افراد یا جوڑے جو اکیلے رہتے ہیں وہ اپنے والدین، یا دوستوں کے بارے میں اس بات کی تصدیق کر کے کہ وہ کئی ہفتے سے ان کی طرح قرنطینہ میں ہیں اور کرونا وائرس سے محفوظ ہیں، ان کے ساتھ جا کر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے ایسے ہی دو دوستوں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی شہر کیلی فورنیا کے شہری چارلز لیچا اور لو نیولین تھاوون نے یہ فیصلہ کیا کہ قرنطینہ کے دوران اکیلے رہنے کی بجائے ایک ہی گھر میں رہ کر ‘قوارنٹیمنگ‘ کریں گے۔
دونوں کا کہنا تھا کہ ان کا یہ تجربہ بہت مزے دار رہا ہے اور وہ بہت عمدہ وقت گزار رہے ہیں۔
دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران لوگ اس طریقہ کار سے مقامی احکامات پر عمل کرنے کے ساتھ اکیلے پن سے چھٹکارا بھی پا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے
منی سوٹا، مشی گن اور ورجینیا کو آزاد کرائیں، صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو پے در پے کئی ٹوئٹ کیے جن میں تین امریکی ریاستوں کو آزاد کرانے کی بات کی گئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے پہلے ٹوئٹ کیا، لبریٹ منی سوٹا۔ پھر نعرہ لگایا، لبریٹ مشی گن۔ اس کے بعد لکھا، لبریٹ ورجینیا۔ یعنی ورجینیا کو آزاد کرائیں اور اپنی عظیم دوسری ترمیم کو بچائیں۔ وہ خطرے میں گھری ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کا تعلق ری پبلیکن پارٹی سے ہے جب کہ منی سوٹا، مشی گن اور ورجینیا، تینوں ریاستوں کے گورنر ڈیمویٹس ہیں۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ملک بھر میں کاروبار جلد از جلد کھول دیا جائے۔ ریاستوں کے گورنر احتیاط کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اس معاملے پر دونوں جانب کے بیانات اور صحت عامہ کے ماہرین کے مشوروں کے بعد جمعرات کی شام صدر ٹرمپ نے نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ تمام گورنر اپنی ریاستوں کے بارے میں خود فیصلے کریں۔ لیکن جب ان سے مظاہروں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے پابندیوں سے متاثر ہونے والوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
جمعہ کی دوپہر بھی انھوں نے ایسے موقع پر یہ ٹوئٹس کیے جب ان ریاستوں میں دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے لوگوں نے سوشل ڈسٹینسنگ یعنی سماجی فاصلے رکھنے کی ہدایات کے خلاف مظاہرے کیے۔ دلچسپ بات ہے کہ انھوں نے یہ ٹوئٹ مظاہروں کی خبر فاکس نیوز پر چلنے کے فوراً بعد کیے۔