رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

09:30 18.4.2020

اسلام آباد کی نواحی بستیوں میں کرونا وائرس کا خطرہ

اسلام آباد کی کچی آبادیوں ميں لاکھوں افراد رہائش پزير ہيں۔ ان گنجان آباد بستيوں ميں سماجی فاصلہ رکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ کوئی ايک شخص بھی کرونا وائرس میں مبتلا ہوا تو پوری بستی اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ نذرالاسلام کی رپورٹ

اسلام آباد کی نواحی بستیوں میں کرونا وائرس کا خطرہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:34 0:00

09:30 18.4.2020

لاک ڈاؤن میں حجام گھروں پر بال کاٹتے رہے

پاکستان میں لاک ڈاون میں نرمی کے بعد درزی، حجام اور پلمبر جیسے ہنرمندوں کو کام شروع کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ پشاور میں حجاموں اور بیوٹی سیلون مالکان نے بندش کا عرصہ کیسے گزارا اور کاروبار کی مکمل بحالی کے بارے میں کتنے پر امید ہے؟ دیکھئے نذر السلام کی رپورٹ

لاک ڈاؤن میں حجاموں کی ہوم سروس
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:41 0:00

09:29 18.4.2020

ٹک ٹاک: والدین بچوں پر پابندیاں لگا سکیں گے

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹک ٹاک' نے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے۔ جس کے ذریعے والدین اپنے بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر پابندیاں لگا سکیں گے۔

نئے متعارف کرائے جانے والے فیچر 'فیملی پیئرنگ' میں والدین اپنے اکاؤنٹس، اپنے بچوں کے اکاؤنٹس سے منسلک کرسکیں گے۔ تاہم اس فیچر کو ایکٹیویٹ کرنے کے لیے لازم ہے کہ بچے اپنے اکاؤنٹس، والدین کے اکاؤنٹس کے ساتھ منسلک کرنے پر راضی ہوں۔

ٹک ٹاک کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو کے مطابق والدین کی بچوں کو موصول ہونے والے پیغامات تک براہ راست رسائی ہوگی اور والدین اپنے بچوں کے لیے مواد کا تعین کرسکیں گے۔

امریکہ سمیت تمام ممالک میں متعارف کرائے گئے نئے فیچر کے ذریعے سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کو براہ راست پیغامات نہیں بھیجے جا سکیں گے۔

اس سے پہلے اسی طرح کا فیچر ‘فیملی سیفٹی موڈ’ متعارف کرایا گیا تھا۔ جو کہ برطانیہ کے سارفین کے لیے بھی تھا۔

مزید پڑھیے

09:28 18.4.2020

قرنطینہ سے اب ’قوارنٹیمنگ’ ہونے لگی ہے

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کرونا وائرس کے دوران قرنطینہ کی تنہائی سے بچنے کے لیے لوگ اپنے دوستوں، رشتے داروں کے گھروں میں رہنے لگے ہیں۔ اس عمل کو #Quaranteaming یعنی قوارنٹیمنگ کا نام دیا گیا ہے۔

وہ افراد یا جوڑے جو اکیلے رہتے ہیں وہ اپنے والدین، یا دوستوں کے بارے میں اس بات کی تصدیق کر کے کہ وہ کئی ہفتے سے ان کی طرح قرنطینہ میں ہیں اور کرونا وائرس سے محفوظ ہیں، ان کے ساتھ جا کر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے ایسے ہی دو دوستوں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی شہر کیلی فورنیا کے شہری چارلز لیچا اور لو نیولین تھاوون نے یہ فیصلہ کیا کہ قرنطینہ کے دوران اکیلے رہنے کی بجائے ایک ہی گھر میں رہ کر ‘قوارنٹیمنگ‘ کریں گے۔

دونوں کا کہنا تھا کہ ان کا یہ تجربہ بہت مزے دار رہا ہے اور وہ بہت عمدہ وقت گزار رہے ہیں۔

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران لوگ اس طریقہ کار سے مقامی احکامات پر عمل کرنے کے ساتھ اکیلے پن سے چھٹکارا بھی پا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG