سندھ میں تاجروں کو 'ہوم ڈیلیوری' کے ذریعے مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت
پاکستان کے صوبے سندھ کے وزیر مراد علی شاہ نے صوبے کے چھوٹے تاجروں کو اپنی مصنوعات لوگوں کے گھروں تک ڈیلیور کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ حکومت نے کاروبار کھولنے کے حوالے سے 'روٹیشن پالیسی' اپنانے کی تجویز پر ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
کراچی میں تاجروں کے ساتھ ملاقات میں حکومت سندھ اور چھوٹے تاجروں کے درمیان (ایس او پیز) پر عمل درآمد کرنے کی صورت میں مصنوعات کی 'ہوم ڈیلیوری' پر اتفاق ہوا ہے۔
اسی طرح لاک ڈاون کے دوران چھوٹے تاجروں کو روٹیشن کی بنیاد پر دکان کھولنے کی تجویز بھی دے دی گئی ہے۔
وزیر اعلی سندھ نے صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز میں کہا ہے کہ ہفتے میں روٹیشن کی بنیاد پر مختلف شعبوں کی دکانیں کھولی جا سکتی ہیں۔ اس پر مزید غور کے لیے صوبائی وزرا سعید غنی، سید ناصر حسین شاہ، امتیاز شیخ پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
کمیٹی تاجروں سے مل کر ایس او پیز بنائے گی۔ صوبائی حکومت کے مطابق ان سفارشات پر وفاقی حکومت سے بات کر کے 'ایس او پیز' کے تحت دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔
ترجمان وزیر اعلی سندھ کے مطابق تاجروں سے ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ ریونیو بورڈ کے ٹیکسز اور صوبائی ایکسائز ٹیکسز میں کاروباری لوگوں کو رعایت دینے کا بھی اعلان کیا یے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ جمعے کو صوبے بھر میں2217 ٹیسٹ کیے گئے جن میں میں کرونا کے 138 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
اس طرح صوبے میں مریضوں کی کل تعداد 2355 ہوگئی ہے۔ صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 48 ہو گئی ہے۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کراچی کے ضلع جنوبی اور شرقی کی گنجان آبادیوں میں کیسز بڑھنا تشویش کی بات ہے۔ اُن کے بقول ہم کچی آبادیوں میں ٹیسٹس بڑھا رہے ہیں۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ کراچی کے گنجان آباد علاقوں کھارادر، لیاری اور بہار کالونی میں زیادہ کیسز آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام جب تک سماجی دوری نہیں اپنائیں گے، یہ مرض پھیلتا جائے گا۔
پاکستانی کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہاں کرونا وائرس کا کوئی مصدقہ کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
پاکستانی کشمیر میں اب تک کرونا کے باعث کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ محکمہ صحت کے مطابق اب تک مجموعی کیسز 48 ہیں۔ جن میں سے نو صحت یاب ہو چکے ہیں۔ یہاں کل 1229 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
کرونا وائرس: ایران میں 'آرمی ڈے' پر میزائلوں کے بجائے طبی آلات کی نمائش
ایران میں جمعے کو 'آرمی ڈے' منایا گیا ہے۔ اس دوران سڑکوں پر فوجی گاڑیوں کے بجائے جراثیم کش ادویات کا اسپرے کرنے والی گاڑیاں، موبائل اسپتال اور طبّی سامان لے جانے والی دیگر گاڑیاں گشت کرتی رہیں۔
'یوم فوج' کے موقع پر "ملک کے محافظ، صحت میں مددگار" کے عنوان سے ایک چھوٹی سی فوجی پریڈ کا بھی انعقاد کیا گیا۔ پریڈ میں شریک کمانڈوز نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک پہنے ہوئے تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پریڈ کے دوران ایران میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فوج کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
یہ پریڈ عام طور پر ہونے والی فوجی پریڈ سے خاصی مختلف تھی۔ اس میں نہ تو اسلحے کی نمائش کی گئی اور نہ ہی جنگی طیاروں کی گھن گرج سنائی دی۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے اس موقع پر فوجیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے ماحول میں یہ ممکن نہیں ہے کہ فوجیوں کی باقاعدہ پریڈ کی جا سکے۔ ہمارا مقابلہ جس دشمن سے ہے، وہ چھپا ہوا ہے اور فرنٹ لائن پر ڈاکٹر اور طبی عملہ کھڑا ہے۔
پاکستان میں نماز تراویح اور عبادات سے متعلق تجاویز
رمضان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومتِ پاکستان اور علما 20 نکاتی تجاویز پر متفق ہو گئے ہیں۔ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی زیرِ صدارت ملک کے چاروں صوبوں میں علما کے ساتھ ویڈیو لنک پر مشاورت کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین اور دریاں نہیں بچھائی جائیں گی۔
افطار اور سحر کے اجتماعی دسترخوانوں کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ نماز سے قبل اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے گا۔
جن مساجد اور امام بارگاہوں میں صحن موجود ہوں وہاں ہال کے بجائے صحن میں نماز پڑھائی جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 50 سال سے زائد افراد، نابالغ افراد اور کھانسی، نزلہ اور زکام کے مریض مساجد نہیں آ سکیں گے۔
مسجد کے احاطے میں نماز تراویح کا اہتمام کیا جائے گا۔ گھروں میں بھی تراویح کا اہتمام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مساجد کے فرش کو صاف رکھنے کے لیے جراثیم کش محلول استعمال کیا جائے گا۔
مساجد میں صف بندیوں کے دوران چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا۔ دو نمازیوں کے درمیان دو نمازیوں کی جگہ خالی چھوڑی جائے گی۔
مسجد انتظامیہ اور معززین پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو ان احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔
نمازیوں کو وضو گھر سے کرنے، ماسک پہننے اور بغل گیر نہ ہونے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ مساجد میں موجودگی کے دوران چہرے کو ہاتھ لگانے سے روکنے کی بھی تنبیہ کی گئی ہے۔