پاکستان میں تصدیق شدہ کیسز 7993 ہو گئے، 159 افراد ہلاک
پاکستان میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 7993 تک پہنچ گئی جب کہ 159 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 514 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس س مصدقہ مریضوں کی تعداد 7993 ہوگئی۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 7847 ٹیسٹ کیے گئے۔ اب تک مجموعی طور پر 98 ہزار 522 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جب کہ 1868 افراد اس بیماری سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔
حکومت کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ 3649 کیسز ہیں۔ سندھ میں 2355، خیبر پختونخوا 1137، بلوچستان 376، اسلام آباد میں 171جب کہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں 48 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کا شکار 16 افراد دم توڑ گئے۔
اب تک کے ریکارڈ کے مطابق خیبرپختونخوا میں کرونا سے سب سے زیادہ 60 اموات ہوئیں، سندھ میں 48، پنجاب میں 41، بلوچستان میں 5 ، گلگت بلتستان میں 3 جب کہ اسلام آباد میں کرونا کے 2 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس کی دوا ڈھونڈنے میں آرٹیفیشل ٹیکنالوجی سے مدد
پاکستان کی یونیورسٹیوں کے ایک کنسورشیم کے سائنس دان جرمنی کی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف میونخ اور پیڈربورن یونیورسٹی سے منسلک پاکستانی نزاد کمپیوٹر سائنس دانوں کے تعاون سے ایف ڈی اے سے منظور شدہ 24440 ادویات میں سے آٹھ ایسی ادویات کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن کے کرونا وائرس کےخلا ف موثر ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ یہ تجربات کئی تیز رفتار اور طاقتور کمپیوٹرز کو بیک وقت استعمال کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جینس ٹیکنالوجی کی مدد سے کیے گئے۔
اس ٹیم میں علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور میں میڈیسن شعبے کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمّد زمان خان شامل ہیں جو کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے مائیکرو بائیولوجی کے شعبے سے بھی منسلک ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، " کسی بیماری کے علاج کے لئے نئی دوا کی دریافت سے لے کر FDA کی منظوری تک کا سفر کئی برسوں میں طے ہوتا ہے۔ جس دوران اس دوا کی افادیت کو جانچنے کیلئے پہلے جانوروں اور پھر انسانوں پر تجربات کیے جاتے ہیں اور مضر اثرات پر غور کیا جاتا ہے۔ ان تمام مراحل میں طے شدہ معیارات پر اترنے والی دوا ہی عام استعمال کے لئے منظور کی جاتی ہے۔
لیکن تیزی سے بگڑتی موجودہ صورت حال کرونا کے علاج کے لئے کسی نئی دوا کی دریافت اور جانچ کے ان طویل مراحل کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جس کے پیش نظر ان دواؤں میں سے کسی موثر دوا کی تلاش کا فیصلہ کیا گیا جو کسی اور بیماری کے علاج کے لئے پہلے سے منظور شدّہ ہیں اور سال ہا سال سے استعمال کی جا رہی ہیں۔ ایک بیماری کیلئے منظور شدہ دوا کو کسی دوسری بیماری میں مفید استعمال کو Repurposing of drugs کہتے ہیں۔
لاک ڈاؤن کے خلاف ٹیکساس میں مظاہرہ، کاروبار کھولنے کا مطالبہ
ٹیکساس میں ہفتے کے روز ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں زیادہ تر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی شامل تھے۔ وہ دفاتر اور روزگار کے مقامات کو کھولنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
ادھر نیو یاک کے گورنر نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے بری طرح شکار ان کی ریاست آخر کار بظاہر صحت کے بدترین بحران سے باہر نکلنے لگی ہے۔
نیویارک امریکہ میں جاری وبا کا مرکز رہا ہے۔ ہفتے کے روز بتایا گیا کہ 17 اپریل کو ریاست میں کرونا وائرس سے مزید 540 جانیں ضائع ہوئیں، جو یکم اپریل سے اب تک کی یومیہ ہلاکتوں کی سب سے کم تعداد ہے۔
اس سے ایک ہی روز قبل ہلاکتوں کی تعداد 630 تھی، جس سے سینکڑوں کی تعداد میں خاندانوں کے پیارے اپنوں سے جدا ہوئے۔
نیویارک میں سانس کی اس وبا کے متاثرین کی تعداد بھی آج نسبتاً کم رہی، جنھیں انتہائی نگہداشت یا وینٹی لیٹرز پر ڈالنے کی ضرورت پڑے۔
نیویارک کے گورنر، اینڈریو کومو نے ہفتے کے دن روزانہ بریفنگ کے دوران بتایا کہ ''اگر آپ گزشتہ تین دنوں پر نظر ڈالیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ شاید ہم بدترین صورت حال سے باہر نکلنے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جو ایک اچھی خبر ہو سکتی ہے''۔
تاہم، کومو نے بتایا کہ پھر بھی ہر روز کم از کم 2000 وائرس سے متاثرہ افراد کو اسپتالوں میں داخل کرایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ نرسنگ ہومز سے 36 نئی ہلاکتوں کی اطلاع موصول ہوئی ہے، جو شعبہ وبا کے دوران ملک بھر میں شدید متاثر ہوا ہے۔
ہمسایہ ریاست، نیو جرسی کے ہیلتھ کمشنر نے کہا ہے کہ صحت عامہ کی تنصیبات میں ہلاکتوں کی تعداد 40 فی صد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔
نیو جرسی نے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا سے مزید 231 ہلاکتیں ہوئی ہیں، اور ریاست میں مجموعی ہلاکتیں بڑھ کر 4000 سے بڑھ چکی ہیں۔
افغانستان سے پاکستانی شہریوں کی واپسی کا عمل جاری
پاکستان اور افغانستان کی سرحدی گزر گاہ طورخم سے افغانستان میں کئی ہفتوں سے محصور پاکستانی شہریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
ہفتے کو مزید 500 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ پاک، افغان سرحد گزشتہ مہینے کے وسط میں کرونا کے باعث بند کر دی گئی تھی۔
ڈپٹی کمشنر خیبر محمود اسلم وزیر نے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کے عمل کی نگرانی کی۔
افغانستان میں پھنسے دیگر پاکستانیوں کی واپسی کا عمل سات روز بعد دوبارہ شروع ہو گا۔
طورخم پہنچنے والے پاکستانیوں کو لنڈی کوتل میں قائم قرنطینہ مرکز منتقل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان مراکز میں لوگوں کو 14 روز تک قیام کرنا ہو گا۔
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے بتایا کہ تبلیٖغی جماعت سے تعلق رکھنے والے 345 افغان شہریوں کو بھی ہفتے کو واپس بھجوا دیا گیا ہے۔
اجمل وزیر نے بتایا کہ جمعے کو افغانستان میں پھنسے 170 ٹرک بھی پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ ان گاڑیوں کے ساتھ آنے والے 195 ڈرائیورز کو بھی 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔