- By شمیم شاہد
افغانستان سے واپس آنے والے افراد کے لیے سات قرنطینہ مراکز
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے کہا ہے کہ افغانستان سے واپس آنے والے افراد کے لیے ضلع خیبر میں سات قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں جس میں تقریبا 1500 افراد کی گنجائش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک افغانستان سے 713 افراد آئے ہیں جو کہ قرنطینہ مراکز میں ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں اجمل وزیر نے کہا کہ افغانستان سے واپس آنے والوں کو تمام تر سہولیات قرنطینہ مراکز میں فراہم کر رہے ہیں جب کہ جلال آباد قونصلیٹ میں بھی کیمپ آفس قائم کیا گیا ہے ہے۔
ان کے بقول افغانستان سے واپس آنے والے افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جن کے ٹیسٹ منفی ہوں گے ان کو اپنے علاقوں کی طرف روانہ کیا جائے گا اور جن کے ٹیسٹ مثبت ہوں گے وہ اپنا مقررہ وقت قرنطینہ مراکز میں گزاریں گے۔
چین اگر کرونا وائرس پھیلنے کا ذمہ دار ہے تو اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا: امریکہ
امریکہ کے صدر ڈونلد ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وبا پھیلنے سے متعلق اگر چین ذمہ دار ہے تو اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وبا کو چین میں روکا جا سکتا تھا جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر پر تنقید کی جا رہی ہے کہ چین نے وبا پر قابو پا لیا ہے جب کہ امریکہ میں اس سے مسلسل ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ کے بقول اب پوری دنیا اس وبا سے تکلیف کا شکار ہے۔
امریکی صدر کا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ماہرین وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان ایسے تعاون پر زور دے رہے ہیں جس کی ماضی میں مثال نہ ملتی ہو۔
- By ضیاء الرحمن
کرونا کے کنٹرول میں پاکستان کی مدد، شہباز شریف کا امریکی سفر کو خط
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کرونا کے کنٹرول میں پاکستان کی مدد اور تعاون پر امریکی سفیر پال جونز کا شکریہ ادا کیا ہے۔
شہباز شریف کی جانب سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور سفیر پال ڈبلیو جونز کو جوابی خط لکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے نہ صرف انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں بلکہ انسانی سماج اور معاشرت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
شہباز شریف کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور روابط کہیں گہرے اور مضبوط ہیں جتنے بظاہر دکھائی دیتے ہیں۔
قائد حزب اختلاف نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ کرونا کسی سرحد کو نہیں پہچانتا، تمام خطے اس کی تباہی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر کرونا کے خلاف تعاون کی جتنی آج ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہیں تھی۔
ان کے بقول صورت حال کا تقاضا ہے کہ امریکہ کرونا کے خلاف جنگ میں قائدانہ کردار ادا کرے۔
اِس سے قبل پاکستان میں امریکی سفیر پال جونز نے شہباز شریف کے نام لکھے گئے ایک خط کے ذریعے امریکہ کی جانب سے کرونا وائرس کے خلاف چوراسی لاکھ امریکی ڈالر کی امداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان کی صحت کے شعبہ میں مداد جاری رکھے گا۔
پال جونز نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ امریکہ کرونا وائرس کی تشخیص، ٹیسٹ اور علاج کے لیے پاکستان کو تین موبائل لیبارٹریاں فراہم کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں بھی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے لیے مالی مدد فراہم کرے گا۔