سیوریج میں کرونا وائرس کی موجودگی کے شواہد مل گئے
آسٹریلیا میں اب تک کرونا وائرس کے تقریباً ساڑھے چھ ہزار کیسز سامنے آئے ہیں اور 79 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سڈنی سے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار فل مرسر نے خبر دی ہے کہ آسٹریلیا کے تحقیق کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سیوریج کے پانی کو ٹسٹ کر کے کرونا وائرس کے پھیلنے کا پیشگی اندازہ لگایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
آسٹریلیا کی ریاست کوئینز لینڈ کے گندے پانی کے دو پلانٹس سے پانی نکال کر جب ٹسٹ کیا گیا تو اس میں اس مرض کے جینیاتی ذرات ملے ہیں۔ اسی بنیاد پر آسٹریلوی سائنس دان مزید تحقیق کر رہے ہیں۔
کوئینز لینڈکی یونی ورسٹی کے محقق پروفیسر کے ون تھامس کا خیال ہے کہ اس طرح کے تجربات سے ہمیں یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ وائرس کس طرح پھیلتا ہے اور اس کو کس طرح روکا جا سکتا ہے۔ پروفیسر تھامس کا کہنا ہے کہ دیگر روایتی تجربات کے ساتھ آلودہ پانی کا ٹسٹ بھی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے ، کیوں کہ اس سے ہمیں یہ معلوم ہو سکے گا کہ ابتدائی طور یہ کیسے پھیلا۔
کیا امریکہ میں حفاظتی طبی سامان کی قلت چین کو اس کی بھاری درآمد سے ہوئی؟
اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق لاکھوں ڈالر مالیت کے ماسک اور طبی حفاظتی سامان ایک ایسے وقت میں امریکہ سے چین کو برآمد کر دیا گیا، جب کرونا وائرس کے امریکہ اور دنیا کے لیے خطرات بڑھ رہے تھے۔
اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس اس بات سے غافل رہا کہ کہ کرونا وائرس امریکہ اور پوری دنیا میں پھیل سکتا ہے اور ان چیزوں کی امریکہ کے اندر ضرورت پڑ سکتی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ یہ اجازت ٹرمپ انتظامیہ کی اس ناکامی کا اظہار ہے کہ اس نے اس عالم گیر وبا کے خطرے کو نہیں بھانپا اور نہ اس کے لیے مناسب تیاری کی۔
اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے اس نے یہ اطلاعات حکومت کے اندرونی اقتصادی جائزہ مواد سے حاصل کیں ہیں۔ اخبار کے مطابق جنوری اور فروری میں اس طرح کے سامان کی برآمد ایک سال قبل کے انہیں مہینوں کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار گنا زیادہ تھی۔ یعنی یہ برآمدات 14 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر ایک کروڑ 76 لاکھ ڈالر پر پہنچ گئیں۔
لیبارٹری میں کرونا وائرس کی تیاری کا الزام سازشی نظریہ ہے، چین
کرونا وائرس جانوروں سے انسانوں کو لگا یا چین کی لیبارٹری میں اسے تیار کیا گیا، یا کہیں اور اس کا تجربہ کیا گیا۔ اس بارے میں چین اور امریکہ کے درمیان الزامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔
چین کے شہر ووہان میں قائم نیشنل بائیو سیفٹی لیب کے ڈائریکٹر یوان زیمنگ نے شدت سے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا منبع ان کی لیبارٹری ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اسے ناممکن اور سازشی نظریہ قرار دے دیا۔
چین کے انگریزی زبان کے نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے چینی حکومت اور کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداروں کے موقف کی مطابقت میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وائرس کے انسٹی ٹیوٹ آف وائرلوجی میں یعنی جرثوموں پر کام کرنے والے ادارے، خاص طور پر اس کی 'پی فور' لیباریٹری سے نکلا ہو، جو خطرناک وائرسوں پر کام کرتی ہے۔
کیا موجودہ حالات میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کرنا مناسب ہے
نیو یارک سٹی یونیورسٹی میں Community and Ethnic media کے کو ڈائریکٹر اور تجزیہ کار جہانگیر خٹک کہتے ہیں کہ یہ سب کے لئے ایک مشکل فیصلہ ہے۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ محفوظ انداز میں بتدریج لاک ڈاؤن ختم کیا جائے تاکہ معیشت چل سکے اور انتخابی سال کے دوران بے روزگاری بڑھنے نہ پائے۔ جب کہ وہ ریاستیں جہاں حالات بدستور خراب ہیں جیسے نیو یارک ہے وہ اس فیصلے کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اس وقت تک اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھانا نہیں چاہتیں جب تک کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے ماہرین اور ذمہ دار مطمئن نہ ہو جائیں۔
انہوں نے کہا یہ دوہری مشکل ہے۔ امریکہ معیشت کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری جانب لاک ڈاؤن ختم کرنے کے خطرات کی سنگینی سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
انہوں کہا کہ اس سلسلے میں کسی صحیح نتیجے ہر پہنچنے کے لئے سیاست کی بجائے ڈیٹا سائنس اور میڈیکل سائنس سے رہنمائی حاصل کی جانی چاہئے۔ اور انہی کے پیش کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جانا چاہئے۔