- By شمیم شاہد
افغانستان میں پھنسے 520 پاکستانیوں کی وطن واپسی
کرونا وائرس کے باعث افغانستان میں پھنس جانے والے پاکستانی باشندوں کی واپسی کا عمل جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو مزید 520 افراد افغانستان سے براستہ طورخم گزرگاہ واپس آ گئے ہیں جنہیں کرونا وائرس سے متاثرہ یا مشتبہ افراد کے نگہداشت اور طبی معائنے کے لیے قائم کردہ قرنطینہ کے خصوصی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے۔
افغانستان میں پھنسنے والے پاکستانی باشندوں کی واپسی کا عمل 18 مارچ کو شروع ہوا تھا۔ حکام کے بقول اب تک 1200 سے زائد شہری افغانستان سے وطن واپس آ چکے ہیں جن میں سے 950 قرنطینہ کے مراکز میں داخل ہیں۔
حکام کا کے مطابق سرحد پار موجود مزید ڈیڑھ ہزار پاکستانی باشندوں کی واپسی کا عمل بھی اگلے چند روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔
- By جمشید رضوانی
ملتان کے 22 ڈاکٹرز کرونا ٹیسٹ منفی آنے پر اسپتال سے ڈسچارج
ملتان کے نشتر اسپتال کے 22 ڈاکٹروں کا کرونا وائرس ٹیسٹ مسلسل دوسری مرتبہ منفی آنے کے بعد اُنہیں اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
یہ تمام ڈاکٹرز مظفر گڑھ کے طیب ایردوان اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ اسپتال میں مزید پانچ ڈاکٹرز ایسے ہیں جن کا ایک اور ٹیسٹ ہونا باقی ہے۔ ٹیسٹ کی رپورٹ کی روشنی میں اُنہیں اسپتال سے چھٹی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ملتان کے نشتر اسپتال میں گزشتہ ہفتے ایک مریض کی ہلاکت کی بعد طبی عملے کے 60 سے زائد ارکان کے کرونا وائرس ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ 27 ڈاکٹروں کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اُنہیں ملتان سے مظفر گڑھ کے طیب ایردوان اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
- By شمیم شاہد
متحدہ عرب امارات سے 1180 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے
متحدہ عرب امارات میں پھنسے 1180 پاکستانی شہری مختلف ایئر لائنز کے ذریعے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
ایمریٹس ایئر لائن کی پرواز 250 مسافروں کو لے کر دبئی سے پشاور پہنچی۔ اسی طرح شارجہ سے غیر ملکی ایئر لائن 250 سے زائد مسافروں کو لے کر ملتان پہنچی۔
پاکستان کی سرکاری ایئر لائن (پی آئی اے) کی تین پروازوں کے ذریعے 733 پاکستانی لاہور اور کراچی پہنچ گئے۔
وطن واپس آنے والے تمام مسافروں کی ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کی گئی جس کے بعد انہیں قرنطینہ مراکز بھیج دیا گیا ہے۔
افغان صدر اشرف غنی اور اہلیہ کا کرونا ٹیسٹ منفی
افغان صدارتی دفتر کے ترجمان کے مطابق صدر اشرف غنی اور ان کی اہلیہ کا کرونا وائرس ٹیسٹ کیا گیا ہے جس کے نتائج منفی آئے ہیں۔
ترجمان صادق صدیقی کے مطابق صدر اشرف غنی کی صحت ٹھیک ہے اور وہ حکومتی معاملات دیکھ رہے ہیں۔